یاد ان کی آ ہی جاتی ہے
Poet: M. Habibullah Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah Rajput, UKیاد ان کی آ ہی جاتی ہے
زخم جگر سہلا ہی جاتی ہے
کوئی اور ہمیں ستائے کیوں
گھڑی ہجر کی آ ہی جاتی ہے
وہ مدتوں سے یہاں نہیں آیا
دور تلک سنسان راہ ہی جاتی ہے
پھول کھلے ہیں دور گلشن میں
بوئے گل بتا ہی جاتی ہے
ہارنے والے ہم نہیں لیکن
کیوں دنیا آزما ہی جاتی ہے
بھلے پکاروں اسے وحشت میں
لب پہ دعا آ ہی جاتی ہے
وقت تیرا بھی آئے گا حبیب
مشکل پس مشکل آ ہی جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






