عجب ھے تانا بانا دل کا
Poet: M. Habibullah Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah Rajput, Karachiعجب ھے تانا بانا دل کا
یہ ھنسانا اور رلانا دل کا
پھول خوشی کے کھلتے جائیں
موسم ھے سہانا دل کا
حسن کی محفل میں اب یارو
شمع ھیں وہ پروانہ دل کا
سدا وہ اس میں آباد رھیں
ھے کیا خوب ٹھکانہ دل کا
کیا بتائیں اے ھم دم تجھ کو
غم ھجر اور گھبرانا دل کا
گواہ ھیں چاند تارے میرے
رو رو کے سنایا فسانہ ول کا
عجب ھے رسم شہر حسن حبیب
جان ہی لے گا،یہ لگانا دل کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






