کوئی خطا ھو گئی ھم سے
Poet: M. Habibullah Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah Rajput, Karachiکوئی خطا ھو گئی ھم سے
بس وفا ھو گئی ھم سے
اک تیری خوشی تھی ساتھ ساتھ
وہ جدا ھو گئی ھم سے
اے جان آرزو تیری نسبت
کیا تھی کیا ھو گئی ھم سے
شاد ھیں کہ نماز عشق
آخر ادا ھو گئی ھم سے
تو بچھڑ بچڑ کے ملے ھم سے
کیسی دعا ھو گئی ھم سے
کوئی خبر اس کی نہ لائی صبا
بتا خفا ھو گئی ھم سے
حبیب سبھی نالاں ھیں یوں
بات صفا ھو گئی سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






