Poetries by Nasir Ali
تیری یاد میں آنکھ روتی ہے خدایا تیری یاد میں
ایسا وقت ہے آیا تیری یاد میں
خوب سجدوں میں تجھے یاد کروں روز و شب
میرے اللہ یہ تمنا ہے تیری یاد میں
دل میں میرے توہی ہو بس میرے مالک
دل ہو روشن جب میرا تیری یاد میں
مشکلیںدور گئیں کب یہ پتہ نہ چلا مجھ کو
اللہ اللہ جو پکارا ہے تیری یاد میں
ہے شفا نام تیرے پر ہر اک کو یا رب
اسی نام کا سہارا ہے تیری یاد میں
نہیں اوقات میری کہ یہ سب کجھ ہو
تیرے ٹکڑوں نے پالا ہے تیری یاد میں
اب ہو زکر تیرا صبج و شام میرے لب پر
اپنے جیوں کا گزارا ہو تیری یاد میں
میرے رب سب کو عطا کر دے جو بھی چاہیں
دل ناصر کی یہ تمنا ہے تیری یاد میں Nasir Ali
ایسا وقت ہے آیا تیری یاد میں
خوب سجدوں میں تجھے یاد کروں روز و شب
میرے اللہ یہ تمنا ہے تیری یاد میں
دل میں میرے توہی ہو بس میرے مالک
دل ہو روشن جب میرا تیری یاد میں
مشکلیںدور گئیں کب یہ پتہ نہ چلا مجھ کو
اللہ اللہ جو پکارا ہے تیری یاد میں
ہے شفا نام تیرے پر ہر اک کو یا رب
اسی نام کا سہارا ہے تیری یاد میں
نہیں اوقات میری کہ یہ سب کجھ ہو
تیرے ٹکڑوں نے پالا ہے تیری یاد میں
اب ہو زکر تیرا صبج و شام میرے لب پر
اپنے جیوں کا گزارا ہو تیری یاد میں
میرے رب سب کو عطا کر دے جو بھی چاہیں
دل ناصر کی یہ تمنا ہے تیری یاد میں Nasir Ali
اچھا نہیں لگتا سامنے سب کے تیرا آنا مجھے اچھا نہیں لگتا
پھر تیرا پلو کو گھومانا مجھے اچھا نہیں لگتا
مجھے ہے اعتبار تیرا لیکن بھر بھی
یہ نجانے ہے کیا جو مجھے اچھا نہیں لگتا
ہے کس قدر پیار میرے دل میں بتا نہیں سکتا
یہی وجہہ ہے کہ کچھ اور مجھے اچھا نہیں لگتا
میں دید کروں تو تیری ہی کروں کیوں کہ
تیرے بن یہ زمانہ مجھے اچھا نہیں لگتا
گزرے تھے جو تیرے پیار میں وہ لمحے
ایسا وقت اب بھولانا مجھے اچھا نہیں لگتا
تیرے ناز میں اٹھاوں گا یہ وعدہ ہے پر
بات یہ سب کو بتانا مجھے اچھا نہیں لگتا
جو مروں تو ساتھ تیرے جیوں تو تیرے ساتھ
بس اتنا ہی ہے زیادہ مجھے اچھا نہیں لگتا
آج ناصر نے تجھے یاد کیا بہت دن بعد
اب تیرا یوں ستانا مجھے اچھا نہیں لگتا Nasir Ali
پھر تیرا پلو کو گھومانا مجھے اچھا نہیں لگتا
مجھے ہے اعتبار تیرا لیکن بھر بھی
یہ نجانے ہے کیا جو مجھے اچھا نہیں لگتا
ہے کس قدر پیار میرے دل میں بتا نہیں سکتا
یہی وجہہ ہے کہ کچھ اور مجھے اچھا نہیں لگتا
میں دید کروں تو تیری ہی کروں کیوں کہ
تیرے بن یہ زمانہ مجھے اچھا نہیں لگتا
گزرے تھے جو تیرے پیار میں وہ لمحے
ایسا وقت اب بھولانا مجھے اچھا نہیں لگتا
تیرے ناز میں اٹھاوں گا یہ وعدہ ہے پر
بات یہ سب کو بتانا مجھے اچھا نہیں لگتا
جو مروں تو ساتھ تیرے جیوں تو تیرے ساتھ
بس اتنا ہی ہے زیادہ مجھے اچھا نہیں لگتا
آج ناصر نے تجھے یاد کیا بہت دن بعد
اب تیرا یوں ستانا مجھے اچھا نہیں لگتا Nasir Ali
جیناجانتے ہیں پوا کے پنچھی ہیں اور اڑنہ جانتے ہیں
بنا محبت کیے بھی جینا جانتے ہیں
وقت برباد ہم کیوں کریں اس پر
مقصد حیات کو جب پہچانتے ہیں
نہ شرت لازم ہے پیار کی اس جگ میں
دم آ خر کو کیوں کے مانتے ہیں
آج محبت کو کیا بنا دیا سب نے
ہے اصل عشق کیا جبکہ دیکھتے ہیں
آنکھ اپنی میں نہ ہو حیا کیوں اب
اپنے رب کو بھی جب کہ چاہتے ہیں
کوئی ناصر سے اور اب نہ پوچھے
عقل مند ہیں یہ خوب سوچتے ہیں Nasir Ali
بنا محبت کیے بھی جینا جانتے ہیں
وقت برباد ہم کیوں کریں اس پر
مقصد حیات کو جب پہچانتے ہیں
نہ شرت لازم ہے پیار کی اس جگ میں
دم آ خر کو کیوں کے مانتے ہیں
آج محبت کو کیا بنا دیا سب نے
ہے اصل عشق کیا جبکہ دیکھتے ہیں
آنکھ اپنی میں نہ ہو حیا کیوں اب
اپنے رب کو بھی جب کہ چاہتے ہیں
کوئی ناصر سے اور اب نہ پوچھے
عقل مند ہیں یہ خوب سوچتے ہیں Nasir Ali
تجھے ڈھونڈہ لیا دونوں ہاتھوں کی لکیروں میں تجھے ڈھونڈ لیا
زندگی کے سفر میں بھی تجھے ہی ڈھونڈ لیا
دھنک کے رنگوں میں پھر بارش کی بوندوں میں
اپنے پل پل میں بھی تجھے ہی ڈھونڈ لیا
وہ تیرا چلنا وہ تیرا ہنسنا میں نے
لاکھ چہروں میں تجھے ہی ڈھونڈ لیا
رات سوتے ہوئے بھی سپنوں میں
میں نے جانم تجھے ہی ڈھونڈ لیا
پھر خیالوں میں بنا کر ملکہ تجھ کو
روز و شب تجھے ہی ڈھونڈ لیا
کوئی ناصر کا مرض اب کیا سمجھے
دل کی دھڑکن میں تجھے ہی ڈھونڈ لیا Nasir Ali
زندگی کے سفر میں بھی تجھے ہی ڈھونڈ لیا
دھنک کے رنگوں میں پھر بارش کی بوندوں میں
اپنے پل پل میں بھی تجھے ہی ڈھونڈ لیا
وہ تیرا چلنا وہ تیرا ہنسنا میں نے
لاکھ چہروں میں تجھے ہی ڈھونڈ لیا
رات سوتے ہوئے بھی سپنوں میں
میں نے جانم تجھے ہی ڈھونڈ لیا
پھر خیالوں میں بنا کر ملکہ تجھ کو
روز و شب تجھے ہی ڈھونڈ لیا
کوئی ناصر کا مرض اب کیا سمجھے
دل کی دھڑکن میں تجھے ہی ڈھونڈ لیا Nasir Ali
زندگی کے سفر میں زندگی کے سفر میں چلتے چلتے
جو کبھی تھک جاو تواے دوست
پلٹ کے ایک بار دیکھنا ضرور
کہ کوئی ہے جو ہے انتظار میں
کہ کب یہ اندھیری رات ختم ہو اور
تیری مہک کے اجالوں سے
جیون میں بہار آئے
تمہیں تو شاہد معلوم نہ ہو
کہ کوئی ہے جو دعا کرتا ہے
راتوں میں جاگ کر
تیری لمبی عمر کے لیئے
تیری ہر اک خوشی کے لیئے
ضرورت جو کبھی محسوس کرو تو
ایک بار پکارنا تو اس کو
دعوے سے کہہ سکتا ہوں میں یہ
پاو گی اپنے پاس اس کو
Nasir Ali
جو کبھی تھک جاو تواے دوست
پلٹ کے ایک بار دیکھنا ضرور
کہ کوئی ہے جو ہے انتظار میں
کہ کب یہ اندھیری رات ختم ہو اور
تیری مہک کے اجالوں سے
جیون میں بہار آئے
تمہیں تو شاہد معلوم نہ ہو
کہ کوئی ہے جو دعا کرتا ہے
راتوں میں جاگ کر
تیری لمبی عمر کے لیئے
تیری ہر اک خوشی کے لیئے
ضرورت جو کبھی محسوس کرو تو
ایک بار پکارنا تو اس کو
دعوے سے کہہ سکتا ہوں میں یہ
پاو گی اپنے پاس اس کو
Nasir Ali
داستان محبت داستان محبت بھی عجب ہوا کرتی ہیں
ہر اک شخص کے زخموں کو ہرا کرتی ہیں
جو ہو کامیاب محبت میں کوئی ہو تو خوشی ہوتی ہے
ورنہ ناکامیاں تو اکثر ان میں ہوا کرتی ہیں
کوئی پا کسی کو بھولے نہیں سماتا
تو مقدر کسی کا یادیں ہوا کرتی ہیں
کسی نے اظہار نہ کیا تو کوئی بار بار کرے
نہ جانے کیسی کیسی کہانیاں ان کی بنا کرتی ہیں
پڑھا تھا ان کو ناصر نے کہ دل بحل جائے گااپنا
ایک یہ ہیں کہ میرے درد کو بڑا کرتی ہیں Nasir Ali
ہر اک شخص کے زخموں کو ہرا کرتی ہیں
جو ہو کامیاب محبت میں کوئی ہو تو خوشی ہوتی ہے
ورنہ ناکامیاں تو اکثر ان میں ہوا کرتی ہیں
کوئی پا کسی کو بھولے نہیں سماتا
تو مقدر کسی کا یادیں ہوا کرتی ہیں
کسی نے اظہار نہ کیا تو کوئی بار بار کرے
نہ جانے کیسی کیسی کہانیاں ان کی بنا کرتی ہیں
پڑھا تھا ان کو ناصر نے کہ دل بحل جائے گااپنا
ایک یہ ہیں کہ میرے درد کو بڑا کرتی ہیں Nasir Ali
Funkaar Hai Toh Funkaar Hai Toh Haath Pay Sooraj Saja Kay La
Bujhta Hua Diya Na Muqaabil Hawa Kay La
Darya Ka Inteqaam Dabo Day Na Ghar Tera
Saahil Say Roz Roz Na Kankar Utha Kay La
Samaan Wafa Kay Baandh Magar Soch Soch Kar
Is Ibteda Mai Yun Na Sakhat Inteha Kay La
Thori Si Aur Mauj Mai Aa, Ayee Hawa-E-Gul
Thori Si Uskay Jism Ki Khushboo Chura Kay La
Gar Sochna Hai Ehl-E-Mashiyaat Kay Hauslay
Maidan Say Ghar Mai Ek Mayyat Utha Kay La
*Mohsin* Ab Uska Naam Hai Sab Ki Zabaan Par
Kis Nay Kaha Tha Usko Ghazal Mai Saja Kay La? Nasir Ali
Bujhta Hua Diya Na Muqaabil Hawa Kay La
Darya Ka Inteqaam Dabo Day Na Ghar Tera
Saahil Say Roz Roz Na Kankar Utha Kay La
Samaan Wafa Kay Baandh Magar Soch Soch Kar
Is Ibteda Mai Yun Na Sakhat Inteha Kay La
Thori Si Aur Mauj Mai Aa, Ayee Hawa-E-Gul
Thori Si Uskay Jism Ki Khushboo Chura Kay La
Gar Sochna Hai Ehl-E-Mashiyaat Kay Hauslay
Maidan Say Ghar Mai Ek Mayyat Utha Kay La
*Mohsin* Ab Uska Naam Hai Sab Ki Zabaan Par
Kis Nay Kaha Tha Usko Ghazal Mai Saja Kay La? Nasir Ali
زمیں سے فلک تک فلک سے عرش تک ہے ہر جگہ تیری حکومت زمیں سے فلک تک فلک سے عرش تک ہے ہر جگہ تیری حکومت
میں جس جگہ بھی تو دیکھتا ہوں خدایا وہاں ہے تیری حکومت
تیرے ہی نام سے ہر ابتدا ہے تیرے ہی نام پے ہر انتہا
دلوں میں سب کے ہے تو ہی تو بس تیرا ہی چرچہ تیری حکومت
پہاڑ جو کھڑے ہے تیری ہی بدولت، زمیں میں جو زرے ہیں تیری ہی بدولت
دریاوٰں میں روانی تیرےہی دم سےمالک،بلبل کی چہچہانی تیرےہی دم سےمالک
ہیں جتنےبھی پرندےتیراہی زکر کرتے،کوئل کی جو ہے کو کو تیرےہی دم سےمالک
ہےتوہی مالک ہےتو ہی رازق ہے ہرجگہ پرتیراہی سکہ تیری ہے عظمت تیری حکومت
سمندر میں مچھلیاں بھی تیراہی نام لیں دلوں کی دھڑکنیں بھی تجھے بیاں کریں
ہیں جس قدر ملائک تجھے ہی تو پکاریں بارش کی سب بوندیں تیرے دم سے برسیں
جو جو بھی کائنات خلقت ہے میرے مالک تیرے ہی دم سے سوئیں تیرے ہی دم سے جاگیں
میں جس کو بھی تودیکھتا ہوں تیری ہی تسبی مولاہراک شےپےتیری ہےرحمت تیری حکومت Nasir Ali
میں جس جگہ بھی تو دیکھتا ہوں خدایا وہاں ہے تیری حکومت
تیرے ہی نام سے ہر ابتدا ہے تیرے ہی نام پے ہر انتہا
دلوں میں سب کے ہے تو ہی تو بس تیرا ہی چرچہ تیری حکومت
پہاڑ جو کھڑے ہے تیری ہی بدولت، زمیں میں جو زرے ہیں تیری ہی بدولت
دریاوٰں میں روانی تیرےہی دم سےمالک،بلبل کی چہچہانی تیرےہی دم سےمالک
ہیں جتنےبھی پرندےتیراہی زکر کرتے،کوئل کی جو ہے کو کو تیرےہی دم سےمالک
ہےتوہی مالک ہےتو ہی رازق ہے ہرجگہ پرتیراہی سکہ تیری ہے عظمت تیری حکومت
سمندر میں مچھلیاں بھی تیراہی نام لیں دلوں کی دھڑکنیں بھی تجھے بیاں کریں
ہیں جس قدر ملائک تجھے ہی تو پکاریں بارش کی سب بوندیں تیرے دم سے برسیں
جو جو بھی کائنات خلقت ہے میرے مالک تیرے ہی دم سے سوئیں تیرے ہی دم سے جاگیں
میں جس کو بھی تودیکھتا ہوں تیری ہی تسبی مولاہراک شےپےتیری ہےرحمت تیری حکومت Nasir Ali
میری نظریں ڈھونڈتی رہتی ہیں تجھے ہر وقت میری نظریں
تیرے لیئے ہی لگتا ہے کہ بنی ہیں میری نظریں
تو تو کہہ کر چلا گیا کہ پیار نہیں ہے مجھ سے
پھر کیوں دیکھنا چاہتی ہیں تجھے اب میری نظریں
تیری راہوں میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے میں نے
پر نہ جانے کیوں تیری راہ تک رہی ہیں میری نظریں
آج مدت کے بعد کیا دیکھ لیا میں نے تم کو
ایسا لگتا ہے کہ کب سے اداس تھیں میری نظریں
میری نظروں کی نہ نظر لگ جائے تم کو جانم
اسی لیئے تو چھپالیں ہیں تم سے میری نظریں
دل کو سمجھا لیا ہے ناصر نے کہ ممکن نہیں اب یہ
دل تو مان گیا پر نہ مانیں میری نظریں Nasir Ali
تیرے لیئے ہی لگتا ہے کہ بنی ہیں میری نظریں
تو تو کہہ کر چلا گیا کہ پیار نہیں ہے مجھ سے
پھر کیوں دیکھنا چاہتی ہیں تجھے اب میری نظریں
تیری راہوں میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے میں نے
پر نہ جانے کیوں تیری راہ تک رہی ہیں میری نظریں
آج مدت کے بعد کیا دیکھ لیا میں نے تم کو
ایسا لگتا ہے کہ کب سے اداس تھیں میری نظریں
میری نظروں کی نہ نظر لگ جائے تم کو جانم
اسی لیئے تو چھپالیں ہیں تم سے میری نظریں
دل کو سمجھا لیا ہے ناصر نے کہ ممکن نہیں اب یہ
دل تو مان گیا پر نہ مانیں میری نظریں Nasir Ali
تیرے پیار میں گزری ہے جو بھی عمر بس تیرے پیار میں
سرمایہ تو وہی ہے سب تیرے پیار میں
زمانہ کہتا تھا کہ چھوڑ دےاور بھول جا اس کو
اپنا تو جو بھی ہے اب تیرے پیار میں
حسرت دل تو یہ تھی کہ تو میرا ہی ہو
قسمت میںلکھا تھا یہ کب تیرے پیار میں
چاہنا تجھ کو میرے لیئے کوئی آسان نہ تھا
میری تو ہر خوشی فقط تیرے پیار میں
گزری ہے زندگی میری تجھے یاد کرتے کرتے
ناصر کی جو بھی عمربس تیرے پیار میں Nasir Ali
سرمایہ تو وہی ہے سب تیرے پیار میں
زمانہ کہتا تھا کہ چھوڑ دےاور بھول جا اس کو
اپنا تو جو بھی ہے اب تیرے پیار میں
حسرت دل تو یہ تھی کہ تو میرا ہی ہو
قسمت میںلکھا تھا یہ کب تیرے پیار میں
چاہنا تجھ کو میرے لیئے کوئی آسان نہ تھا
میری تو ہر خوشی فقط تیرے پیار میں
گزری ہے زندگی میری تجھے یاد کرتے کرتے
ناصر کی جو بھی عمربس تیرے پیار میں Nasir Ali
دل کی بند کتاب دل کی بند کتاب اے دوست
تجھے سوچ کرکبھی کبھی کھل جاتی ہے
میرا تو تو ہی سب کچھ تھی
اسی لیئے تو رہ رہ کے یاد آتی ہے
اپنا بنانا چاہا تھا میں نے تجھ کو
تیرے بنا یہ زندگی ستاتی ہے
مجھے پتہ تھا یہ ہو نہیں سکتا
پھر نہ جانے کیوں تو سپنوںمیں آتی ہے
بھولنے کی میں نے تجھ کو کوشش تو خوب کی
چاہت پر تیری اب بھی مجھ کو کیوں رولاتی ہے
جلا دیے ہیں ناصر نے پیار کے وہ خط
محبت تو پھر نہ جانے بڑھتی کیوں جاتی ہے
Nasir Ali
تجھے سوچ کرکبھی کبھی کھل جاتی ہے
میرا تو تو ہی سب کچھ تھی
اسی لیئے تو رہ رہ کے یاد آتی ہے
اپنا بنانا چاہا تھا میں نے تجھ کو
تیرے بنا یہ زندگی ستاتی ہے
مجھے پتہ تھا یہ ہو نہیں سکتا
پھر نہ جانے کیوں تو سپنوںمیں آتی ہے
بھولنے کی میں نے تجھ کو کوشش تو خوب کی
چاہت پر تیری اب بھی مجھ کو کیوں رولاتی ہے
جلا دیے ہیں ناصر نے پیار کے وہ خط
محبت تو پھر نہ جانے بڑھتی کیوں جاتی ہے
Nasir Ali
ًبس محبت کی تھی نہ مجنوں نے نہ پنوں نے نہ فرہاد نے کی تھی
میں نے اس قدر تجھ سے پاک محبت کی تھی
ہاں دیکھا تھا تو بس تیرا چہرا اک بار
پھر زمانے میں نہ کسی اور کی دیدہ کی تھی
لوگ کہتے ہیں کہ پیار محبت کا نہیں اب یہ دور
میں نے لوگوں کی اسی بات سے نفرت کی تھی
کتنی فرست سے بنایا ہو گا خدا نےتم کو
میں نے تو قدرت کے شاہکار کی قدر ہی تو کی تھی
میں نہ مجنوں نہ پنوں نہ فرہاد ہوں اے دوست
پر اس دور میں بھی ان سی چاہت کی تھی
باں اگر پیار کوئی جرم ہے تو یہ جرم ہوا ہے مجھ سے
پر نہ پانے کی تجھے ناصر نے کبھی کوشش کی تھی Nasir Ali
میں نے اس قدر تجھ سے پاک محبت کی تھی
ہاں دیکھا تھا تو بس تیرا چہرا اک بار
پھر زمانے میں نہ کسی اور کی دیدہ کی تھی
لوگ کہتے ہیں کہ پیار محبت کا نہیں اب یہ دور
میں نے لوگوں کی اسی بات سے نفرت کی تھی
کتنی فرست سے بنایا ہو گا خدا نےتم کو
میں نے تو قدرت کے شاہکار کی قدر ہی تو کی تھی
میں نہ مجنوں نہ پنوں نہ فرہاد ہوں اے دوست
پر اس دور میں بھی ان سی چاہت کی تھی
باں اگر پیار کوئی جرم ہے تو یہ جرم ہوا ہے مجھ سے
پر نہ پانے کی تجھے ناصر نے کبھی کوشش کی تھی Nasir Ali
Iqbal Teray dais ka kiya haal sunaoon Iqbal Teray Dais Ka Kiya Haal Sunaoon
Dehqan To Mar Khap Gaya Ab Kisko Jagaoon
Milta Hai Kahan Khosha-E-Kandum K Jalaon
Makaari-O-Ayaar-O-Gadaari-O-Hijaan
Ab Banta Hai In Chaar Anasir Say Muslaman
Qari Essay Kehna To Bari Baat Hai Yaro
Iss Nay To Kabhi Khool K Daikha Nehi Quraan
Baibaki-O-Haq Goi Say Ghabrata Hai Momin
Makaari-O-Robahi Pay Etraata Hai Momin
Jis Rizk Say Parvaaz Main Kotahi Ka Dar Ho
Wo Rizk Baray Shok Say Khata Hain Momin
Shaheen Ka Jahan Ab Mamolay Ka Jahan Hai
Milti Hui Mulla Say Mujahid Ki Azaan Hai
Mana K Sitaron Say Bhi Agay Hain Jahan Aur
Shaheen Main Magar Taqat-E-Parvaaz Kahan Hai
Kirdar Ka, Guftaar Ka, Amaal Ka Momin
Qaail Nehi Aisay Kisi Janjaal Ka Momin
Sarhad Ka Hai Momin, Koi Bangaal Ka Momin
Dhoondhay Say Bhi Milta Nehi Quraan Ka Momin
Har Darhi Main Tinka Hai, Har Aankh Main Shehteer
Momin Ki Nigahoon Say Ab Badalti Nehi Taqdeer
Toheed Ki Talvaaron Say Khali Hain Niyamain
Ab Zoq-E-Yaqeen Say Nehi Kati Koi Zanjeer
Daikho To Zara Mahalon Kay Pardo Ko Utha Kar
Shamsheer-O-Sina Rakhi Hain Taqqo Main Saja Kar
Aatay Hain Nazar Masnad-E-Shahi Pay Rangeelay
Taqdeer-E-Ummam Soo Gai Tauos Pay Aa Kar
Mar Mar Ki Silon Say Koi Baizaar Nehi Hai
Rehnay Ko Haram Main Koi Tayaar Nehi Hai
Kehnay Ko Har Shakhs Musalman Hain Lakin
Daikho To Kahen Naam Ko Qirdar Nehi Hain
Nasir Ali
Dehqan To Mar Khap Gaya Ab Kisko Jagaoon
Milta Hai Kahan Khosha-E-Kandum K Jalaon
Makaari-O-Ayaar-O-Gadaari-O-Hijaan
Ab Banta Hai In Chaar Anasir Say Muslaman
Qari Essay Kehna To Bari Baat Hai Yaro
Iss Nay To Kabhi Khool K Daikha Nehi Quraan
Baibaki-O-Haq Goi Say Ghabrata Hai Momin
Makaari-O-Robahi Pay Etraata Hai Momin
Jis Rizk Say Parvaaz Main Kotahi Ka Dar Ho
Wo Rizk Baray Shok Say Khata Hain Momin
Shaheen Ka Jahan Ab Mamolay Ka Jahan Hai
Milti Hui Mulla Say Mujahid Ki Azaan Hai
Mana K Sitaron Say Bhi Agay Hain Jahan Aur
Shaheen Main Magar Taqat-E-Parvaaz Kahan Hai
Kirdar Ka, Guftaar Ka, Amaal Ka Momin
Qaail Nehi Aisay Kisi Janjaal Ka Momin
Sarhad Ka Hai Momin, Koi Bangaal Ka Momin
Dhoondhay Say Bhi Milta Nehi Quraan Ka Momin
Har Darhi Main Tinka Hai, Har Aankh Main Shehteer
Momin Ki Nigahoon Say Ab Badalti Nehi Taqdeer
Toheed Ki Talvaaron Say Khali Hain Niyamain
Ab Zoq-E-Yaqeen Say Nehi Kati Koi Zanjeer
Daikho To Zara Mahalon Kay Pardo Ko Utha Kar
Shamsheer-O-Sina Rakhi Hain Taqqo Main Saja Kar
Aatay Hain Nazar Masnad-E-Shahi Pay Rangeelay
Taqdeer-E-Ummam Soo Gai Tauos Pay Aa Kar
Mar Mar Ki Silon Say Koi Baizaar Nehi Hai
Rehnay Ko Haram Main Koi Tayaar Nehi Hai
Kehnay Ko Har Shakhs Musalman Hain Lakin
Daikho To Kahen Naam Ko Qirdar Nehi Hain
Nasir Ali
سلام رمضان آ گیا وہ ماہ جس کا تھا ہمیں بھی انتظار
ماہ رمضاں تیری آمد مرحبا جی مرحبا
مسجدوں کی رونقیں بڑھ رہیں ہیں آج پھر
خوب آئے گا مزہ مرحبا جی مرحبا
سب تم رو رو کر خدا مانگ لو جو بھی ہے آس
جشن رمضاں کا مناو مرحبا جی مرحبا
خوب افطاروسحر کی نعمتیں تم لوٹ لو
یہ ہے رمضاں کی سعادت مرحبا جی مرحبا
اپنے میں تو سب گناہ اب بخشوا کر جاوں گا
دل سے ہے نکلی صدا مرحبا جی مرحبا
پہلے بھی چرچے تھے تیری آمد کے اے ماہ
اب بھی ہے یہ ہی بکار مرحبا جی مرحبا Nasir Ali
ماہ رمضاں تیری آمد مرحبا جی مرحبا
مسجدوں کی رونقیں بڑھ رہیں ہیں آج پھر
خوب آئے گا مزہ مرحبا جی مرحبا
سب تم رو رو کر خدا مانگ لو جو بھی ہے آس
جشن رمضاں کا مناو مرحبا جی مرحبا
خوب افطاروسحر کی نعمتیں تم لوٹ لو
یہ ہے رمضاں کی سعادت مرحبا جی مرحبا
اپنے میں تو سب گناہ اب بخشوا کر جاوں گا
دل سے ہے نکلی صدا مرحبا جی مرحبا
پہلے بھی چرچے تھے تیری آمد کے اے ماہ
اب بھی ہے یہ ہی بکار مرحبا جی مرحبا Nasir Ali
اک لڑکی تھی وہ اک لڑکی تھی وہ
چنچل سی شوخ سی
پگلی سی شرمیلی سی
نادان سی دیوانی سی
بھولی سی بے تاب سی
پھولوں میں گلاب سی
اک لڑکی تھی وہ
حسن کا سرچشمہ تھی وہ
قدرت کا کرشمہ تھی وہ
جاگتے میں سپنا تھی وہ
اپنے من آس تھی وہ
ہر پل میرے پاس تھی وہ
اک لڑکی تھی وہ
دکھتی تھی چاند کی ماند
ہنستی تھی بھول کی ماند
چلتی تھی لہروں کی ماند
پرستاں میں پری کی ماند
گلستاں میں کلی کی ماند
اک لڑکی تھی وہ
اپنا وہ کلام تھی
دل کا پیام تھی
چاہنے کو چاہ تھی
صحرا میں راہ تھی
تاریکیوں میں شمع تھی
اک لڑکی تھی وہ
حیا کا وہ پیکر تھی بس
قلب کا وہ محور تھی بس
حسن کا شباب تھی بس
چمکتا مہتاب تھی بس
ناصر کا وہ خواب تھی بس
اک لڑکی تھی وہ Nasir Ali
چنچل سی شوخ سی
پگلی سی شرمیلی سی
نادان سی دیوانی سی
بھولی سی بے تاب سی
پھولوں میں گلاب سی
اک لڑکی تھی وہ
حسن کا سرچشمہ تھی وہ
قدرت کا کرشمہ تھی وہ
جاگتے میں سپنا تھی وہ
اپنے من آس تھی وہ
ہر پل میرے پاس تھی وہ
اک لڑکی تھی وہ
دکھتی تھی چاند کی ماند
ہنستی تھی بھول کی ماند
چلتی تھی لہروں کی ماند
پرستاں میں پری کی ماند
گلستاں میں کلی کی ماند
اک لڑکی تھی وہ
اپنا وہ کلام تھی
دل کا پیام تھی
چاہنے کو چاہ تھی
صحرا میں راہ تھی
تاریکیوں میں شمع تھی
اک لڑکی تھی وہ
حیا کا وہ پیکر تھی بس
قلب کا وہ محور تھی بس
حسن کا شباب تھی بس
چمکتا مہتاب تھی بس
ناصر کا وہ خواب تھی بس
اک لڑکی تھی وہ Nasir Ali
تم نے دیکھا کیا تم نے دیکھا کیا
فٹ پاتھ پے چلتے ہوئےان لوگوں کو
جو پڑے ہیں راہوں میں
گرمی میں سردی میں دھوپ میں چھاؤں میں
تم نے دیکھا کیا
پسینے سے شرابور ہیں جو
محنت ہی جزبہ ہے جن کا
مزدوری ہی پیشہ ہے جن کا
تم نے دیکھا کیا
ٹھوکریں دربدر کی کھاتے ہیں
جو تھکتے نہیں کام میں
صبج ہو یا شام میں
تم نے دیکھا کیا
جھڑکیاں کھا کے بھی اف نہیں کہتے
زندگی میں کردار ہے ان کا
عظیم مرتبہ اور مقام ہے ان کا
تم نے دیکھا کیا
چلتے چلتے جو کبھی تھک جاتے ہیں
سو جاتے ہیں راہ میں اکثر
تکیہ ہوتا ہے اینٹ جن کا اکثر
تم نے دیکھا کیا
کھاتے ہیں پی سی میں ہر طرح کے کھانے
شکوہ ہوتا ہے مزدور سے ان کو
پیسے زبادہ ہیں کم کرو ان کو
تم نے دیکھا کیا
کہا اقبال کا ہی کہتا ہوں اور کچھ نہیں کہتا ناصر
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے Nasir Ali
فٹ پاتھ پے چلتے ہوئےان لوگوں کو
جو پڑے ہیں راہوں میں
گرمی میں سردی میں دھوپ میں چھاؤں میں
تم نے دیکھا کیا
پسینے سے شرابور ہیں جو
محنت ہی جزبہ ہے جن کا
مزدوری ہی پیشہ ہے جن کا
تم نے دیکھا کیا
ٹھوکریں دربدر کی کھاتے ہیں
جو تھکتے نہیں کام میں
صبج ہو یا شام میں
تم نے دیکھا کیا
جھڑکیاں کھا کے بھی اف نہیں کہتے
زندگی میں کردار ہے ان کا
عظیم مرتبہ اور مقام ہے ان کا
تم نے دیکھا کیا
چلتے چلتے جو کبھی تھک جاتے ہیں
سو جاتے ہیں راہ میں اکثر
تکیہ ہوتا ہے اینٹ جن کا اکثر
تم نے دیکھا کیا
کھاتے ہیں پی سی میں ہر طرح کے کھانے
شکوہ ہوتا ہے مزدور سے ان کو
پیسے زبادہ ہیں کم کرو ان کو
تم نے دیکھا کیا
کہا اقبال کا ہی کہتا ہوں اور کچھ نہیں کہتا ناصر
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے Nasir Ali
اپنی کہانی اپنی زبانی صبح سویرے گھاس پے چلنا اچھا لگتا تھا
نت نئے کپڑے بدلنا اچھا لگتا تھا
گھومنا پھرنا، گانا وانا، کنگی شنگی کرکے
سامنے اس کے گھر کے آنا اچھا لگتا تھا
رات گئے یاد میں اس کی ہر سو کھوئے رہنا
سوچنا اس کو دیکھنا اس کو اچھا لگتا تھا
کالج جا کے کتابوں میں بھی دیکھتا تھا میں اسکو
سینما جانا ، بسنت منانا، اچھا لگتا تھا
لگتا تھا کہ چھپ کے مجھ کو دیکھا کرتی تھی وہ
اتنا ہی بس سوچتے رہنا اچھا لگتا تھا
میں تو تیرے پیار کو اب بھی بھول سکا نہ اے دوست
تجھ پر ہی ناصر کو لکھنا اچھا لگتا تھا Nasir Ali
نت نئے کپڑے بدلنا اچھا لگتا تھا
گھومنا پھرنا، گانا وانا، کنگی شنگی کرکے
سامنے اس کے گھر کے آنا اچھا لگتا تھا
رات گئے یاد میں اس کی ہر سو کھوئے رہنا
سوچنا اس کو دیکھنا اس کو اچھا لگتا تھا
کالج جا کے کتابوں میں بھی دیکھتا تھا میں اسکو
سینما جانا ، بسنت منانا، اچھا لگتا تھا
لگتا تھا کہ چھپ کے مجھ کو دیکھا کرتی تھی وہ
اتنا ہی بس سوچتے رہنا اچھا لگتا تھا
میں تو تیرے پیار کو اب بھی بھول سکا نہ اے دوست
تجھ پر ہی ناصر کو لکھنا اچھا لگتا تھا Nasir Ali
تو میرا نہیں رہا میں تو اکثر یہ سوچتا تھا کہ تو میرا نہیں رہا
آج تو نے بھی کہہ دیا کہ تو میرا نہیں رہا
دل کی بے چینیوں کو سمجھ نہ پاتا تھا
اب تو تجھ سے بھی سن لیا کہ تو میرا نہیں رہا
جیون کی اک آس تھی تو پرتو سمجھ نہ پائی
مجھ سے تو نے آن کہا کہ تو میرا نہیں رہا
جاہا تھا تجھ دل سے تو نے وفا نہ کی
خود سے ہی پوچھتا رہا کہ تو میرا نہیں رہا
ناصر کو یاد ہے اب بھی پیار کے وہ دن
تجھ سے ہے پر نہیں گلہ کہ تو میرا نہیں رہا Nasir Ali
آج تو نے بھی کہہ دیا کہ تو میرا نہیں رہا
دل کی بے چینیوں کو سمجھ نہ پاتا تھا
اب تو تجھ سے بھی سن لیا کہ تو میرا نہیں رہا
جیون کی اک آس تھی تو پرتو سمجھ نہ پائی
مجھ سے تو نے آن کہا کہ تو میرا نہیں رہا
جاہا تھا تجھ دل سے تو نے وفا نہ کی
خود سے ہی پوچھتا رہا کہ تو میرا نہیں رہا
ناصر کو یاد ہے اب بھی پیار کے وہ دن
تجھ سے ہے پر نہیں گلہ کہ تو میرا نہیں رہا Nasir Ali