اپنی کہانی اپنی زبانی
Poet: Nasir Ali By: Nasir Ali, Islamabadصبح سویرے گھاس پے چلنا اچھا لگتا تھا
نت نئے کپڑے بدلنا اچھا لگتا تھا
گھومنا پھرنا، گانا وانا، کنگی شنگی کرکے
سامنے اس کے گھر کے آنا اچھا لگتا تھا
رات گئے یاد میں اس کی ہر سو کھوئے رہنا
سوچنا اس کو دیکھنا اس کو اچھا لگتا تھا
کالج جا کے کتابوں میں بھی دیکھتا تھا میں اسکو
سینما جانا ، بسنت منانا، اچھا لگتا تھا
لگتا تھا کہ چھپ کے مجھ کو دیکھا کرتی تھی وہ
اتنا ہی بس سوچتے رہنا اچھا لگتا تھا
میں تو تیرے پیار کو اب بھی بھول سکا نہ اے دوست
تجھ پر ہی ناصر کو لکھنا اچھا لگتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






