اک لڑکی تھی وہ
Poet: Nasir Ali By: Nasir Ali, Islamabadاک لڑکی تھی وہ
چنچل سی شوخ سی
پگلی سی شرمیلی سی
نادان سی دیوانی سی
بھولی سی بے تاب سی
پھولوں میں گلاب سی
اک لڑکی تھی وہ
حسن کا سرچشمہ تھی وہ
قدرت کا کرشمہ تھی وہ
جاگتے میں سپنا تھی وہ
اپنے من آس تھی وہ
ہر پل میرے پاس تھی وہ
اک لڑکی تھی وہ
دکھتی تھی چاند کی ماند
ہنستی تھی بھول کی ماند
چلتی تھی لہروں کی ماند
پرستاں میں پری کی ماند
گلستاں میں کلی کی ماند
اک لڑکی تھی وہ
اپنا وہ کلام تھی
دل کا پیام تھی
چاہنے کو چاہ تھی
صحرا میں راہ تھی
تاریکیوں میں شمع تھی
اک لڑکی تھی وہ
حیا کا وہ پیکر تھی بس
قلب کا وہ محور تھی بس
حسن کا شباب تھی بس
چمکتا مہتاب تھی بس
ناصر کا وہ خواب تھی بس
اک لڑکی تھی وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






