Poetries by نویدصدیقی
اس کی گلی میں جب مرا جانا بہت ہوا اس کی گلی میں جب مرا جانا بہت ہوا
ناراض مجھ سے یار کا نانا بہت ہوا
پھر ساری عمر بیوی سے ڈرتا رہا میاں
دو چار بار ساس کا آنا بہت ہوا
حالت تو خیر ہو گئی پتلی عوام کی
لیڈر کا کاروبار توانا بہت ہوا
سب اس کے بعد لذتِ آوارگی گئی
ہم کو تو ایک رات کا"تھانہ" بہت ہوا
انگلی اٹھائی خادمِ اعلیٰ نے جس گھڑی
کم زور افسروں کا مثانہ بہت ہوا
گندے ٹماٹروں کی وہ بارش ہوئی کہ بس
شاعر کا اک غزل ہی سنانا ، بہت ہوا
کھانے پر اس نے ہم کو بلایا کبھی نہیں
"مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا"
فرفر سنائی اس نے سبھی داستانِ عشق
عاشق کے سر پہ دھول جمانا بہت ہوا
اس کا بھی آگیا ہمیں بل دس ہزار کا
بس ایک بلب ہم کو جلانا بہت ہوا
اب بھی ہمیں رلاتا ہے کہنا"قبول ہے"
یہ حادثہ اگرچہ پرانا بہت ہوا
فرمائشیں تو آتی ہیں پردیس میں بہت
کہتا نہیں کوئی کہ کمانا بہت ہوا
اس مصرعہء طرح پہ لکھو اب کوئی غزل
چھوڑو نوید! ہنسنا ہنسانا بہت ہوا Naveed Siddiqui
ناراض مجھ سے یار کا نانا بہت ہوا
پھر ساری عمر بیوی سے ڈرتا رہا میاں
دو چار بار ساس کا آنا بہت ہوا
حالت تو خیر ہو گئی پتلی عوام کی
لیڈر کا کاروبار توانا بہت ہوا
سب اس کے بعد لذتِ آوارگی گئی
ہم کو تو ایک رات کا"تھانہ" بہت ہوا
انگلی اٹھائی خادمِ اعلیٰ نے جس گھڑی
کم زور افسروں کا مثانہ بہت ہوا
گندے ٹماٹروں کی وہ بارش ہوئی کہ بس
شاعر کا اک غزل ہی سنانا ، بہت ہوا
کھانے پر اس نے ہم کو بلایا کبھی نہیں
"مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا"
فرفر سنائی اس نے سبھی داستانِ عشق
عاشق کے سر پہ دھول جمانا بہت ہوا
اس کا بھی آگیا ہمیں بل دس ہزار کا
بس ایک بلب ہم کو جلانا بہت ہوا
اب بھی ہمیں رلاتا ہے کہنا"قبول ہے"
یہ حادثہ اگرچہ پرانا بہت ہوا
فرمائشیں تو آتی ہیں پردیس میں بہت
کہتا نہیں کوئی کہ کمانا بہت ہوا
اس مصرعہء طرح پہ لکھو اب کوئی غزل
چھوڑو نوید! ہنسنا ہنسانا بہت ہوا Naveed Siddiqui
گرچہ پہلے سے وہ گُم کثرتِ اولاد میں ہے گرچہ پہلے سے وہ گُم کثرتِ اولاد میں ہے
"نخلِ بند" ایک ابھی" گلشنِ ایجاد" میں ہے
گولفافہ بھی ضروری ہے عطا ہو اس کو
جان شاعر کی مگر اٹکی ہوئی داد میں ہے
فضل ہے رب کا میرے دیس پہ لیکن پھر بھی
"فضلَ ربی" کا چلن ملکِ خداد داد میں ہے
یہ تھری ڈی کا کرشمہ ہے ، محبت کا نہیں
"حسنِ شیریں کی جھلک تیشہء فرہاد میں ہے"
ہے فقط پڑھنے پڑھانے سے یہ تھوڑا بیزار
ورنہ ہر ایک ہنر آج کے استاد میں ہے
ایسے ہو سکتا ہے اور ویسے بھی ہو سکتا ہے
بات دو طرفہ سی لیڈر !ترے ارشاد میں ہے
بِن پڑھے کرتا ہے تنقید سخن پر میرے
حوصلہ اتنا ابھی تک مرے نقاد میں ہے
ایک خوش فہمی سی رہتی ہے ہر اک شاعر کو
مجھ سے پہلے ہے کوئی اور نہ مرے بعد میں ہے Naveed Siddiqui
"نخلِ بند" ایک ابھی" گلشنِ ایجاد" میں ہے
گولفافہ بھی ضروری ہے عطا ہو اس کو
جان شاعر کی مگر اٹکی ہوئی داد میں ہے
فضل ہے رب کا میرے دیس پہ لیکن پھر بھی
"فضلَ ربی" کا چلن ملکِ خداد داد میں ہے
یہ تھری ڈی کا کرشمہ ہے ، محبت کا نہیں
"حسنِ شیریں کی جھلک تیشہء فرہاد میں ہے"
ہے فقط پڑھنے پڑھانے سے یہ تھوڑا بیزار
ورنہ ہر ایک ہنر آج کے استاد میں ہے
ایسے ہو سکتا ہے اور ویسے بھی ہو سکتا ہے
بات دو طرفہ سی لیڈر !ترے ارشاد میں ہے
بِن پڑھے کرتا ہے تنقید سخن پر میرے
حوصلہ اتنا ابھی تک مرے نقاد میں ہے
ایک خوش فہمی سی رہتی ہے ہر اک شاعر کو
مجھ سے پہلے ہے کوئی اور نہ مرے بعد میں ہے Naveed Siddiqui
گھمانا میں ہر ایک لاء چاہتا ہوں گھمانا میں ہر ایک لاء چاہتا ہوں
پولس کے محکمے میں جا چاہتا ہوں
حسینہ کہ گونگی ہو اور مال والی
" مری سادگی دیکھ ، کیا چاہتا ہوں "
تعلق ہے میرا ہزاروں سے لیکن
مگر یار کو پارسا چاہتا ہوں
مسلماں ہوں اور چار کا حق ہے مجھ کو
میں اک زن پہ کب اکتفا چاہتا ہوں
سیاست میں آیا ہوں کھانے کی خاطر
لگایا جو اس کا صلہ چاہتا ہوں
نہ مل پائی " ٭خانم " سو "مِیرا " عطا ہو ٭صبیحہ خانم
میں کیا چاہتا تھا، میں کیا چاہتا ہوں
نہیں مجھ کو پچتا ہے گھی اور کوئی
میں کھانے میں بس " ڈالڈا " چاہتا ہوں
میں خود کو بدلنے پہ تیار کب ہوں؟
زمانہ مگر میں نیا چاہتا ہوں
غزل فیس بک پر مکمل تو کر لوں
ذرا صبر بیگم! اٹھا چاہتا ہوں Naveed Siddiqui
پولس کے محکمے میں جا چاہتا ہوں
حسینہ کہ گونگی ہو اور مال والی
" مری سادگی دیکھ ، کیا چاہتا ہوں "
تعلق ہے میرا ہزاروں سے لیکن
مگر یار کو پارسا چاہتا ہوں
مسلماں ہوں اور چار کا حق ہے مجھ کو
میں اک زن پہ کب اکتفا چاہتا ہوں
سیاست میں آیا ہوں کھانے کی خاطر
لگایا جو اس کا صلہ چاہتا ہوں
نہ مل پائی " ٭خانم " سو "مِیرا " عطا ہو ٭صبیحہ خانم
میں کیا چاہتا تھا، میں کیا چاہتا ہوں
نہیں مجھ کو پچتا ہے گھی اور کوئی
میں کھانے میں بس " ڈالڈا " چاہتا ہوں
میں خود کو بدلنے پہ تیار کب ہوں؟
زمانہ مگر میں نیا چاہتا ہوں
غزل فیس بک پر مکمل تو کر لوں
ذرا صبر بیگم! اٹھا چاہتا ہوں Naveed Siddiqui
پرعیب اپنی ذات کا جوہرلگا ہمیں پُرعیب اپنی ذات کا جوہرلگا ہمیں
آئینہ ء حیات مکدر لگا ہمیں
سردردکار ِعشق ہے نادان!بازآ
اس راہ پر نہ اے دل ِ خودسر لگا ہمیں
رگ رگ میں دوڑتا پھرے احساس ِ زندگی
اے گردش ِ زمانہ! وہ ٹھوکر لگا ہمیں
شاید یہ استعارہ ہے اپنے زوال کا
سایہ بھی اپنے قد کے برابر لگا ہمیں
دنیا نے اختلاف تواکثر کیا مگر
ہم نے وہی کیا کہ جو بہتر لگا ہمیں
کس طرح ایک عمر کٹی، سوچتے ہیں ہم
اک شخص کیسے زیست کا محور لگا ہمیں
اس کے بغیر ڈوبتے سورج کو دیکھ کر
کتنا اداس شام کا منظر لگا ہمیں
دیکھا جو ماں کو اپنا پسر بیچتے ہوئے
"اک زلزلہ وجود کے اندر لگا ہمیں" Naveed Siddiqui
آئینہ ء حیات مکدر لگا ہمیں
سردردکار ِعشق ہے نادان!بازآ
اس راہ پر نہ اے دل ِ خودسر لگا ہمیں
رگ رگ میں دوڑتا پھرے احساس ِ زندگی
اے گردش ِ زمانہ! وہ ٹھوکر لگا ہمیں
شاید یہ استعارہ ہے اپنے زوال کا
سایہ بھی اپنے قد کے برابر لگا ہمیں
دنیا نے اختلاف تواکثر کیا مگر
ہم نے وہی کیا کہ جو بہتر لگا ہمیں
کس طرح ایک عمر کٹی، سوچتے ہیں ہم
اک شخص کیسے زیست کا محور لگا ہمیں
اس کے بغیر ڈوبتے سورج کو دیکھ کر
کتنا اداس شام کا منظر لگا ہمیں
دیکھا جو ماں کو اپنا پسر بیچتے ہوئے
"اک زلزلہ وجود کے اندر لگا ہمیں" Naveed Siddiqui
محبوب سے جدا ہوں،یہ دل سوگوار ہے محبوب سے جدا ہوں ،یہ دل سوگوار ہے
"اے مرگِ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے"
رہتانہیں ہے یاد کوئی لمحہء وصال
اپنے لیے تو عہدِ ستم یادگار ہے
جچتا نہیں نگاہ میں تیرے سوا کوئی
یوں دیکھنے کو حسن یہاں بے شمار ہے
اس سے زیادہ حاکمِ دوراں کا کیا کہوں؟
غفلت شعار ہے میاں! غفلت شعار ہے
وہ دوسرے کے حال سے کتنا ہے بے خبر
دنیا جس آدمی پہ بہت آشکار ہے
حیران ہو ں کہ ترکِ محبت کے باوجود
ہم جی رہے ہیں،رشتہء جاں برقرار ہے
نویدصدیقی
"اے مرگِ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے"
رہتانہیں ہے یاد کوئی لمحہء وصال
اپنے لیے تو عہدِ ستم یادگار ہے
جچتا نہیں نگاہ میں تیرے سوا کوئی
یوں دیکھنے کو حسن یہاں بے شمار ہے
اس سے زیادہ حاکمِ دوراں کا کیا کہوں؟
غفلت شعار ہے میاں! غفلت شعار ہے
وہ دوسرے کے حال سے کتنا ہے بے خبر
دنیا جس آدمی پہ بہت آشکار ہے
حیران ہو ں کہ ترکِ محبت کے باوجود
ہم جی رہے ہیں،رشتہء جاں برقرار ہے
نویدصدیقی
کیا بتائیں اس دل کا حالِ زار کیسا ہے؟ کیا بتائیں اس دل کا حالِ زار کیسا ہے؟
کیسی بے بسی ہے یہ ؟اختیار کیسا ہے؟
زخم زخم کرتا ہے وصل میں سخن اس کا
روپ میں محبت کے اس کا پیار کیسا ہے؟
آئینے میں اپنی ہی شکل گر نہیں دیکھی
بے سبب نگاہوں میں پھر خمار کیسا ہے؟
اسوہء محمد پر جوعمل نہیں کرتا
کیسا امتی ہے وہ؟پیروکار کیسا ہے؟
بزمِ دوستاں بھی ہے،رات بھی ،ستارے بھی
"ایسی رونقوں میں وہ سوگوار کیسا ہے؟"
مشکلوں سے گھبرا کر،سوچتا ہوںمیں اکثر
جسم و جاں سے یہ رشتہ برقرار کیسا ہے؟
دل،نوید کہتا ہے،اب نہیں ملے گا وہ
پھر یہ رُت بدلنے کا انتظار کیسا ہے؟ نویدصدیقی
کیسی بے بسی ہے یہ ؟اختیار کیسا ہے؟
زخم زخم کرتا ہے وصل میں سخن اس کا
روپ میں محبت کے اس کا پیار کیسا ہے؟
آئینے میں اپنی ہی شکل گر نہیں دیکھی
بے سبب نگاہوں میں پھر خمار کیسا ہے؟
اسوہء محمد پر جوعمل نہیں کرتا
کیسا امتی ہے وہ؟پیروکار کیسا ہے؟
بزمِ دوستاں بھی ہے،رات بھی ،ستارے بھی
"ایسی رونقوں میں وہ سوگوار کیسا ہے؟"
مشکلوں سے گھبرا کر،سوچتا ہوںمیں اکثر
جسم و جاں سے یہ رشتہ برقرار کیسا ہے؟
دل،نوید کہتا ہے،اب نہیں ملے گا وہ
پھر یہ رُت بدلنے کا انتظار کیسا ہے؟ نویدصدیقی
اس دل کے موسموں کا شناسا کہیں جسے اس دل کے موسموں کا شناسا کہیں جسے
کوئی ہو اس جہاں میں کہ اپنا کہیں جسے
تہذیب ِ نو کے باب میں کہنا ہے بس یہی
دراصل تیرگی ہے ،اجالا کہیں جسے
مولا! مرے سخن کو عطا کر وہ بانکپن
اہلِ سخن تمام اچھوتا کہیں جسے
پیدا کر اپنے آپ میں وہ جوہر ِ کمال
اے دوست ! تیری ذات کا گہنا کہیں جسے
ڈھلتا نہیں سخن میں ترا پیکر ِ حسیں
"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے"
آیا نہیں ہے شخص کوئی ایسا سامنے
بے ساختہ ہم عکس تمھارا کہیں جسے
وہ بھی ہماری کاہشِ امروز کا ہے پھل
اہلِ زمانہ حاصلِ فردا کہیں جسے
سمجھیں تو خود ہی اپنی تماشائی ہے نوید
کہنے کولوگ چشم ِ تماشا کہیں جسے نویدصدیقی
کوئی ہو اس جہاں میں کہ اپنا کہیں جسے
تہذیب ِ نو کے باب میں کہنا ہے بس یہی
دراصل تیرگی ہے ،اجالا کہیں جسے
مولا! مرے سخن کو عطا کر وہ بانکپن
اہلِ سخن تمام اچھوتا کہیں جسے
پیدا کر اپنے آپ میں وہ جوہر ِ کمال
اے دوست ! تیری ذات کا گہنا کہیں جسے
ڈھلتا نہیں سخن میں ترا پیکر ِ حسیں
"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے"
آیا نہیں ہے شخص کوئی ایسا سامنے
بے ساختہ ہم عکس تمھارا کہیں جسے
وہ بھی ہماری کاہشِ امروز کا ہے پھل
اہلِ زمانہ حاصلِ فردا کہیں جسے
سمجھیں تو خود ہی اپنی تماشائی ہے نوید
کہنے کولوگ چشم ِ تماشا کہیں جسے نویدصدیقی
کیا غم اسے کہ لچا ،لفنگا کہیں جسے کیا غم اسے کہ لچا، لفنگا کہیں جسے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
اب اپنی حرکتوں سے کترتا ہے سب کے کان
اپنے بڑوں کا باپ ہے بچہ کہیں جسے
دور ِ جدید میں یہی قاتل کی مثل ہے
وہ ڈاگدار صیب،مسیحا کہیں جسے
اس کے گلے میں سوز ہے نزلے کی مار سے
بیمار ِ دائمی ہے گوۤیا کہیں جسے
بیوی کا رعب تاب و تواں ساتھ لے گیا
ویسے تو ٹھیک ٹھاک ہے،ہکلا کہیں جسے
جو ہےدرست لوگ اسے کہتے ہیں سب غلط
سیدھا ہے اصل میں وہی الٹا کہیں جسے
ملتی نہیں ہے مولوی ڈیزل!تری مثال
"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے"
سادہ زباں میں کہتے ہیں شوہر اسے نوید
اہلِ زمانہ عقل کا اندھا کہیں جسے
نویدصدیقی
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
اب اپنی حرکتوں سے کترتا ہے سب کے کان
اپنے بڑوں کا باپ ہے بچہ کہیں جسے
دور ِ جدید میں یہی قاتل کی مثل ہے
وہ ڈاگدار صیب،مسیحا کہیں جسے
اس کے گلے میں سوز ہے نزلے کی مار سے
بیمار ِ دائمی ہے گوۤیا کہیں جسے
بیوی کا رعب تاب و تواں ساتھ لے گیا
ویسے تو ٹھیک ٹھاک ہے،ہکلا کہیں جسے
جو ہےدرست لوگ اسے کہتے ہیں سب غلط
سیدھا ہے اصل میں وہی الٹا کہیں جسے
ملتی نہیں ہے مولوی ڈیزل!تری مثال
"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے"
سادہ زباں میں کہتے ہیں شوہر اسے نوید
اہلِ زمانہ عقل کا اندھا کہیں جسے
نویدصدیقی
پھیلی ہوئی فضا میں یہ جو ہاہاکارہے پھیلی ہوئی فضا میں یہ جو ہاہاکار ہے
محو ِ سخن ضرور کوئی موسیقار ہے
شب جاکے اپنے گھر پہ جو دستک دی تو معاً
بیگم نے پوچھا"کون؟" کہا"خاک سار ہے"
تم کو بتاؤں فوری ترقی کا ایک گر
لیڈر کی چمچہ گیری کرو،بیڑا پار ہے
کھاؤں گا آج میں تو فقط بیس روٹیاں
معدہ ہے سخت،پیٹ میں کچھ انتشار ہے
کم تر ہے اک گدھے سے بھی شوہر کی حیثیت
کہنے کو اپنے گھر کا وہی تاج دار ہے
دوگھنٹہ بات کرتی رہی "رانگ کال"پر
اور اس پہ کہہ رہی ہے ابھی" اختصار ہے"
گرویدہء متھیرا ہوئے سارے نوجواں
گویا کہ سو بمار ہیں اور اک انار ہے
وہ دن گئے کہ ملتے تھے ہر روز باغ میں
دیدار ِ یار دوستو! اب ماہ وار ہے
ریٹارمنٹ ہو گئی،سٹھیا بھی وہ گئے
"اے مرگِ ناگہاں !تجھے کیا انتظار ہے؟" نویدصدیقی
محو ِ سخن ضرور کوئی موسیقار ہے
شب جاکے اپنے گھر پہ جو دستک دی تو معاً
بیگم نے پوچھا"کون؟" کہا"خاک سار ہے"
تم کو بتاؤں فوری ترقی کا ایک گر
لیڈر کی چمچہ گیری کرو،بیڑا پار ہے
کھاؤں گا آج میں تو فقط بیس روٹیاں
معدہ ہے سخت،پیٹ میں کچھ انتشار ہے
کم تر ہے اک گدھے سے بھی شوہر کی حیثیت
کہنے کو اپنے گھر کا وہی تاج دار ہے
دوگھنٹہ بات کرتی رہی "رانگ کال"پر
اور اس پہ کہہ رہی ہے ابھی" اختصار ہے"
گرویدہء متھیرا ہوئے سارے نوجواں
گویا کہ سو بمار ہیں اور اک انار ہے
وہ دن گئے کہ ملتے تھے ہر روز باغ میں
دیدار ِ یار دوستو! اب ماہ وار ہے
ریٹارمنٹ ہو گئی،سٹھیا بھی وہ گئے
"اے مرگِ ناگہاں !تجھے کیا انتظار ہے؟" نویدصدیقی
دیکھا جو وصل کی شب انداز دلبری کا دیکھا جو وصل کی شب انداز دل بری کا
آنکھوں میں رہ گیا وہ عالم سپردگی کا
جینا ہوا ہے مشکل احساس کی چبھن سے
ہم کو نہ مارڈالے یہ شوق آگہی کا
کرتے ہو بے رخی کا شکوہ خدا سے ناحق
حق بھی ادا کیا ہے کیا تم نے بندگی کا؟
کتنی طویل ہو گی یہ رنج کی مسافت
کب تک کروں نظارہ میں تیری بے حسی کا
کل ٹھوکروں میں ہو گاسردار!یہ ترا سر
سمجھا اگر نہ مطلب لوگوں کی خامشی کا
ماتم کناں ہے انساں اور آپ کہہ رہے ہیں
"بیدار ہو رہا ہے انسان اس صدی کا" نویدصدیقی
آنکھوں میں رہ گیا وہ عالم سپردگی کا
جینا ہوا ہے مشکل احساس کی چبھن سے
ہم کو نہ مارڈالے یہ شوق آگہی کا
کرتے ہو بے رخی کا شکوہ خدا سے ناحق
حق بھی ادا کیا ہے کیا تم نے بندگی کا؟
کتنی طویل ہو گی یہ رنج کی مسافت
کب تک کروں نظارہ میں تیری بے حسی کا
کل ٹھوکروں میں ہو گاسردار!یہ ترا سر
سمجھا اگر نہ مطلب لوگوں کی خامشی کا
ماتم کناں ہے انساں اور آپ کہہ رہے ہیں
"بیدار ہو رہا ہے انسان اس صدی کا" نویدصدیقی
کہنا غلط نہیں ہے صاحب کے اردلی کا کہنا غلط نہیں ہے صاحب کے اردلی کا
بالا ہے بول بے شک یاں ہر خوشامدی کا
اشعار بے تحاشا ہم آج شب کہیں گے
روکے گا کون رستا بہتی ہوئی ندی کا
اس ہاتھ مال آئے،اس ہاتھ کام نکلے
رشوت ہے اک طریقہ امدادِ باہمی کا
اے غالبِ زمانہ زیبا نہیں ہے تجھ کو
بے وزن شاعری پر دعویٰ سخن وری کا
شوہر اگر نہیں تو رنڈوا ضرور ہے یہ
بتلا رہا ہے یارو! انداز عاجزی کا
ہوگا وہی کہے گا "بیروکریٹ"جو بھی
بس"seen" لکھتے جانا ہے کام منتری کا
ورثے میں مل گیا ہے یہ منصبِ جہالت
ابا بھی باولا ہے بے چاری باولی کا
میک اپ زنانیوں کا رونے سے بہہ رہا تھا
اندوہ ناک کتنا منظر تھا رخصتی کا
وہ "ڈیزی پام" کھا کے سویا ہوا تھا پہلے
"بیدار ہو رہا ہے انسان اس صدی کا"
جن کوالیکشنوں میں آیا نہ ہاتھ موقع
وہ شور کررہے ہیں اب ان میں دھاندلی کا
بجلی کے ساتھ سارے گُل ہو گئے ہیں شاعر
یوں وقت مل گیا ہے ہم کو"مناپلی"کا
لکھ لکھ کے دل کی حالت کردیں گے اس کو میسج
اب فیس بک سے لیں گے ہم کام ایلچی کا
داخل نہ ہوں گے ہرگز ہم ہسپتال جا کر
ہم سے نہ ہو گا بیگم! یہ کام بزدلی کا
رخصت نوید جی لو اب محفلِ سخن سے
کیا کام ہے یہاں پر تم جیسے مبتدی کا نویدصدیقی
بالا ہے بول بے شک یاں ہر خوشامدی کا
اشعار بے تحاشا ہم آج شب کہیں گے
روکے گا کون رستا بہتی ہوئی ندی کا
اس ہاتھ مال آئے،اس ہاتھ کام نکلے
رشوت ہے اک طریقہ امدادِ باہمی کا
اے غالبِ زمانہ زیبا نہیں ہے تجھ کو
بے وزن شاعری پر دعویٰ سخن وری کا
شوہر اگر نہیں تو رنڈوا ضرور ہے یہ
بتلا رہا ہے یارو! انداز عاجزی کا
ہوگا وہی کہے گا "بیروکریٹ"جو بھی
بس"seen" لکھتے جانا ہے کام منتری کا
ورثے میں مل گیا ہے یہ منصبِ جہالت
ابا بھی باولا ہے بے چاری باولی کا
میک اپ زنانیوں کا رونے سے بہہ رہا تھا
اندوہ ناک کتنا منظر تھا رخصتی کا
وہ "ڈیزی پام" کھا کے سویا ہوا تھا پہلے
"بیدار ہو رہا ہے انسان اس صدی کا"
جن کوالیکشنوں میں آیا نہ ہاتھ موقع
وہ شور کررہے ہیں اب ان میں دھاندلی کا
بجلی کے ساتھ سارے گُل ہو گئے ہیں شاعر
یوں وقت مل گیا ہے ہم کو"مناپلی"کا
لکھ لکھ کے دل کی حالت کردیں گے اس کو میسج
اب فیس بک سے لیں گے ہم کام ایلچی کا
داخل نہ ہوں گے ہرگز ہم ہسپتال جا کر
ہم سے نہ ہو گا بیگم! یہ کام بزدلی کا
رخصت نوید جی لو اب محفلِ سخن سے
کیا کام ہے یہاں پر تم جیسے مبتدی کا نویدصدیقی
ازل تا ابد یہ حقیقت عیاں ہے ازل تا ابد یہ حقیقت عیاں ہے
"محمد ہی دل ہے،محمد ہی جاں ہے"
یہ اعلان ِ حق درمیانِ اذاں ہے
"محمد ہی دل ہے،محمد ہی جاں ہے"
نبی کی محبت سے بازآئے مسلم
یہ امکان بھی ماورائے گماں ہے
تخیل کی پرواز بابِ نبی میں
محیط اس مکاں سے سوئے لامکاں ہے
اگراذن ہو سرکے بل جاؤں طیبہ
بدن میں ابھی میرے تاب وتواں ہے
تھکن کا نہیں شائبہ تن بدن میں
ثنائے محمد میں دل شادماں ہے
انھی کے عمل سے ہرا ہے یہ گلشن
انھی کی بدولت یہ نظمِ جہاں ہے
کہاں پر نہیں ان کی رحمت کا سایا
اِدھر ہے،اُدھر ہے،یہاں ہے،وہاں ہے
تہی ہے اگر ان کی تقلید سے ،تو
سمجھ لیجے زندگی رائیگاں ہے
مثال اس کی ہے نہ کوئی لا سکے گا
وہ بے مثل ویکتا ہے،عالی نشاں ہے
اسی سے معطر ہے گل زار ِ ہستی
اسی بو سے مہکا ہوا نخل ِ جاں ہے
بچائے گا ہر غم سے یہ روزِ محشر
یہی نام ِاحمد مرا سائباں ہے
فنا ہے تخیل کی کاری گری کو
محمد کا ذکر ِ حسیں جاوداں ہے
محمد کا مفہوم اپنی نظر میں
اماں ہے،اماں ہے،اماں ہے،اماں ہے
نبی کی محبت کا اعجاز ہے یہ
یونہی کب سخن کا یہ دریا رواں ہے
عطا ہے یہ اعزازِ حبُ ِ نبی ہے
کہاں نعت کہنے کے لائق زباں ہے
سخن میں ہے تاثیر تو اس کا باعث
نوید ان کی مدحت ہے،ان کا بیاں ہے
بیاں کررہاہوں میں شانِ محمد
نویدآج مجھ پر خدا مہرباں ہے نویدصدیقی
"محمد ہی دل ہے،محمد ہی جاں ہے"
یہ اعلان ِ حق درمیانِ اذاں ہے
"محمد ہی دل ہے،محمد ہی جاں ہے"
نبی کی محبت سے بازآئے مسلم
یہ امکان بھی ماورائے گماں ہے
تخیل کی پرواز بابِ نبی میں
محیط اس مکاں سے سوئے لامکاں ہے
اگراذن ہو سرکے بل جاؤں طیبہ
بدن میں ابھی میرے تاب وتواں ہے
تھکن کا نہیں شائبہ تن بدن میں
ثنائے محمد میں دل شادماں ہے
انھی کے عمل سے ہرا ہے یہ گلشن
انھی کی بدولت یہ نظمِ جہاں ہے
کہاں پر نہیں ان کی رحمت کا سایا
اِدھر ہے،اُدھر ہے،یہاں ہے،وہاں ہے
تہی ہے اگر ان کی تقلید سے ،تو
سمجھ لیجے زندگی رائیگاں ہے
مثال اس کی ہے نہ کوئی لا سکے گا
وہ بے مثل ویکتا ہے،عالی نشاں ہے
اسی سے معطر ہے گل زار ِ ہستی
اسی بو سے مہکا ہوا نخل ِ جاں ہے
بچائے گا ہر غم سے یہ روزِ محشر
یہی نام ِاحمد مرا سائباں ہے
فنا ہے تخیل کی کاری گری کو
محمد کا ذکر ِ حسیں جاوداں ہے
محمد کا مفہوم اپنی نظر میں
اماں ہے،اماں ہے،اماں ہے،اماں ہے
نبی کی محبت کا اعجاز ہے یہ
یونہی کب سخن کا یہ دریا رواں ہے
عطا ہے یہ اعزازِ حبُ ِ نبی ہے
کہاں نعت کہنے کے لائق زباں ہے
سخن میں ہے تاثیر تو اس کا باعث
نوید ان کی مدحت ہے،ان کا بیاں ہے
بیاں کررہاہوں میں شانِ محمد
نویدآج مجھ پر خدا مہرباں ہے نویدصدیقی
فردِ عمل کو میری شریفانہ کر دیا فردِ عمل کو میری شریفانہ کر دیا
جب پیش میں نے "پُلس" کو نذرانہ کر دیا
بیگم کا جیب خرچ بڑھانے کے واسطے
کم اس نے والدین کا ماہانہ کر دیا
داڑھی میں آ گئے ہیں ابھی سے سفید بال
نزلے نے میرا حال بزرگانہ کر دیا
اسکول میں پڑھاتا ہے ڈنڈے کے زور پر
ٹیچر نے "علم خانے" کو اک" تھانہ" کردیا
رویا کچھ ایسے ایک بڑی شاعرہ کا طفل
ماحول بزمِ شعر کا بچگانہ کر دیا
کھل جائے نہ کسی پہ مرا حال ِغم کہیں
یہ سوچ کر سخن کو ظریفانہ کردیا
منہ کھولتے ہوئے ترے ابا کے سامنے
"ہم نے حقیقتوں کو بھی افسانہ کردیا"
اس دورِ ارتقا نے کیا آخرش غضب
سلطاں کو ڈاکٹرز نے سلطانہ کر دیا
پہلے بھی جان لیوا تھے بیگم کے خال وخط
میک اپ نے ان کو اور بہیمانہ کردیا
نہ بن سکا پلاؤ تو چینی بکھیرکر
اس نے تمام دیگ کو "شَکرانہ"کردیا
ہے گھن گرج تو خوب پر آتا نہیں سمجھ
انداز اس نے اپنا خطیبانہ کر دیا
کاری گری دکھائی ہے معمار نے عجب
نقشہ مکاں کا خانہ بدوشانہ کر دیا
ہے پائے کا ادیب کہ جس نے بصد سعی
مہمل علامتوں کو بھی افسانہ کر دیا
میں نے کہا نوید"محبت سے دیکھیے"
جاناں نے سرہلا دیا،نہ،نہ،نہ کر دیا Naveed Siddiqui,Lodhran
جب پیش میں نے "پُلس" کو نذرانہ کر دیا
بیگم کا جیب خرچ بڑھانے کے واسطے
کم اس نے والدین کا ماہانہ کر دیا
داڑھی میں آ گئے ہیں ابھی سے سفید بال
نزلے نے میرا حال بزرگانہ کر دیا
اسکول میں پڑھاتا ہے ڈنڈے کے زور پر
ٹیچر نے "علم خانے" کو اک" تھانہ" کردیا
رویا کچھ ایسے ایک بڑی شاعرہ کا طفل
ماحول بزمِ شعر کا بچگانہ کر دیا
کھل جائے نہ کسی پہ مرا حال ِغم کہیں
یہ سوچ کر سخن کو ظریفانہ کردیا
منہ کھولتے ہوئے ترے ابا کے سامنے
"ہم نے حقیقتوں کو بھی افسانہ کردیا"
اس دورِ ارتقا نے کیا آخرش غضب
سلطاں کو ڈاکٹرز نے سلطانہ کر دیا
پہلے بھی جان لیوا تھے بیگم کے خال وخط
میک اپ نے ان کو اور بہیمانہ کردیا
نہ بن سکا پلاؤ تو چینی بکھیرکر
اس نے تمام دیگ کو "شَکرانہ"کردیا
ہے گھن گرج تو خوب پر آتا نہیں سمجھ
انداز اس نے اپنا خطیبانہ کر دیا
کاری گری دکھائی ہے معمار نے عجب
نقشہ مکاں کا خانہ بدوشانہ کر دیا
ہے پائے کا ادیب کہ جس نے بصد سعی
مہمل علامتوں کو بھی افسانہ کر دیا
میں نے کہا نوید"محبت سے دیکھیے"
جاناں نے سرہلا دیا،نہ،نہ،نہ کر دیا Naveed Siddiqui,Lodhran
فی البدیہہ جہاں پہ لوگ گھٹن کی فضا میں زندہ ہیں
ہم ایسے شہر کی آب وہوا میں زندہ ہیں
تمھاری ذلف کی خوش بو جو کھینچ لائی تھی
ہم اہلِ دل اسی موجِ صبا میں زندہ ہیں
دکھائی دیتی نہیں انقلاب کی صورت
کہ لوگ خیمہء صبرورضا میں زندہ ہیں
انھی کی لو میں سفر زندگی کا جاری ہے
چراغ جو رہ کرب وبلا میں زندہ ہیں
یہاں کسی کی صدا کوئی بھی نہیں سنتا
زمین زاد ہیں لیکن خلا میں زندہ ہیں
یہ جبرِ زیست ہے اپنا کوئی کمال نہیں
یہ ہم جو عہدِ ستم آشنا میں زندہ ہیں
گلہ نہیں ہے زمانے کی کج ادائی کا
فقیر لوگ ہیں اپنی ہوا میں زندہ ہیں
اور اب دیکھے کا سودا
روانہیں ہے مگر ناروا میں زندہ ہیں
سب اپنے اپنے غموں کی ردا میں زندہ ہیں
ہے یہ بھی اپنے دکھوں سے بچاءو کا رستا
کہ لوگ خیمہء صبرورضامیں زندہ ہیں
امیرِ شہر کو راس آگئی ہے سفاکی
غریبِ شہر مگر ابتلا میں زندہ ہیں
طلب سے بڑھ کے ملا ہے ہمیں مگر پھر بھی
ہزار خواہشیں دستِ دعا میں زندہ ہیں
یہ معجزہ بھی وفا کے سبب ہوا ممکن
نوید حلقہء اہلِ جفا میں زندہ ہیں نویدصدیقی
ہم ایسے شہر کی آب وہوا میں زندہ ہیں
تمھاری ذلف کی خوش بو جو کھینچ لائی تھی
ہم اہلِ دل اسی موجِ صبا میں زندہ ہیں
دکھائی دیتی نہیں انقلاب کی صورت
کہ لوگ خیمہء صبرورضا میں زندہ ہیں
انھی کی لو میں سفر زندگی کا جاری ہے
چراغ جو رہ کرب وبلا میں زندہ ہیں
یہاں کسی کی صدا کوئی بھی نہیں سنتا
زمین زاد ہیں لیکن خلا میں زندہ ہیں
یہ جبرِ زیست ہے اپنا کوئی کمال نہیں
یہ ہم جو عہدِ ستم آشنا میں زندہ ہیں
گلہ نہیں ہے زمانے کی کج ادائی کا
فقیر لوگ ہیں اپنی ہوا میں زندہ ہیں
اور اب دیکھے کا سودا
روانہیں ہے مگر ناروا میں زندہ ہیں
سب اپنے اپنے غموں کی ردا میں زندہ ہیں
ہے یہ بھی اپنے دکھوں سے بچاءو کا رستا
کہ لوگ خیمہء صبرورضامیں زندہ ہیں
امیرِ شہر کو راس آگئی ہے سفاکی
غریبِ شہر مگر ابتلا میں زندہ ہیں
طلب سے بڑھ کے ملا ہے ہمیں مگر پھر بھی
ہزار خواہشیں دستِ دعا میں زندہ ہیں
یہ معجزہ بھی وفا کے سبب ہوا ممکن
نوید حلقہء اہلِ جفا میں زندہ ہیں نویدصدیقی
احمد فراز کی زمین میں وہ مجھ سے ہو خفا دیکھا نہ جائے
یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے
مرا ایمان ہے سچائیوں پر
روا کو ناروا دیکھا نہ جائے
جدا ہونا بہت آسان ہوگا
اگر عہدِ وفا دیکھا نہ جائے
محبت کو جواں رکھنا ہے تو پھر
عمل اچھا برا دیکھا نہ جائے
لہو سے تر ہے میری پاک دھرتی
ستم کا باب وا دیکھا نہ جائے
کوئی رستا کوئی رہبرعطا ہو
بھٹکتا قافلہ دیکھا نہ جائے
تری یادوں نے پاگل کر دیا ہے
تجھے کچھ دن بھُلا دیکھا نہ جائے؟
ہمارے سامنے منزل کھڑی ہے
مگر جب راستا دیکھا نہ جائے
بہت سے لوگ ہیں دنیا میں لیکن
کوئی ہو آپ سا ،دیکھا نہ جائے Naveed Siddiqui
یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے
مرا ایمان ہے سچائیوں پر
روا کو ناروا دیکھا نہ جائے
جدا ہونا بہت آسان ہوگا
اگر عہدِ وفا دیکھا نہ جائے
محبت کو جواں رکھنا ہے تو پھر
عمل اچھا برا دیکھا نہ جائے
لہو سے تر ہے میری پاک دھرتی
ستم کا باب وا دیکھا نہ جائے
کوئی رستا کوئی رہبرعطا ہو
بھٹکتا قافلہ دیکھا نہ جائے
تری یادوں نے پاگل کر دیا ہے
تجھے کچھ دن بھُلا دیکھا نہ جائے؟
ہمارے سامنے منزل کھڑی ہے
مگر جب راستا دیکھا نہ جائے
بہت سے لوگ ہیں دنیا میں لیکن
کوئی ہو آپ سا ،دیکھا نہ جائے Naveed Siddiqui
ندامت کی کمی ہے لہجوں میں ابھی بُوئے بغاوت کی کمی ہے
ہے شور بہت،حرف صداقت کی کمی ہے
دل سب کے دھڑکتے نہیں کیوں ایک ہی لے پر
احساس کی دولت نہ محبت کی کمی ہے
مال و زر دنیا سے لبا لب ہے اگرچہ
گنجینئہ شاہی میں ندامت کی کمی ہے
اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے
رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے
نویدصدیقی
ہے شور بہت،حرف صداقت کی کمی ہے
دل سب کے دھڑکتے نہیں کیوں ایک ہی لے پر
احساس کی دولت نہ محبت کی کمی ہے
مال و زر دنیا سے لبا لب ہے اگرچہ
گنجینئہ شاہی میں ندامت کی کمی ہے
اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے
رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے
نویدصدیقی