پرعیب اپنی ذات کا جوہرلگا ہمیں
Poet: Naveed Siddiqui By: Naveed Siddiqui, Lodhranپُرعیب اپنی ذات کا جوہرلگا ہمیں
آئینہ ء حیات مکدر لگا ہمیں
سردردکار ِعشق ہے نادان!بازآ
اس راہ پر نہ اے دل ِ خودسر لگا ہمیں
رگ رگ میں دوڑتا پھرے احساس ِ زندگی
اے گردش ِ زمانہ! وہ ٹھوکر لگا ہمیں
شاید یہ استعارہ ہے اپنے زوال کا
سایہ بھی اپنے قد کے برابر لگا ہمیں
دنیا نے اختلاف تواکثر کیا مگر
ہم نے وہی کیا کہ جو بہتر لگا ہمیں
کس طرح ایک عمر کٹی، سوچتے ہیں ہم
اک شخص کیسے زیست کا محور لگا ہمیں
اس کے بغیر ڈوبتے سورج کو دیکھ کر
کتنا اداس شام کا منظر لگا ہمیں
دیکھا جو ماں کو اپنا پسر بیچتے ہوئے
"اک زلزلہ وجود کے اندر لگا ہمیں"
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






