ندامت کی کمی ہے

Poet: نویدصدیقی By: نویدصدیقی, لودہراں
Nedamat Ki Kami Hai

 لہجوں میں ابھی بُوئے بغاوت کی کمی ہے
ہے شور بہت،حرف صداقت کی کمی ہے

دل سب کے دھڑکتے نہیں کیوں ایک ہی لے پر
احساس کی دولت نہ محبت کی کمی ہے

مال و زر دنیا سے لبا لب ہے اگرچہ
گنجینئہ شاہی میں ندامت کی کمی ہے

اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے

رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے

Rate it:
Views: 3180
28 Nov, 2007
More Political Poetry