Phool Bewafa Nahi Hoty
Poet: Syeda sadia amber jilani By: Syeda sadia amber jilani, FAISALABADPhool Bewafa Nahi Hoty
K Phoolon Ko Ye Zaib Nhi Dyta
Kisi Ki Muskan Hoty Hain
Rooh Ka Chain Hoty Hain
Dua E Dard Hoty Hain
Dard E Ladawa Nhi Hoty
Phool Bewafa Nahi Hoty
Apni Khushbo Lutay Hain
Kahe'n Khushiyan Basaty Hain
Kisi Ka Humsafar Ban Kar
Zehar E Tanhai Nahi Dety
Phool Bewafa Nahi Hoty
Sarapa Muhbt Hoty Hain
Kisi Doshyza Ki Trha
Wafa Ka Paker Hoty Hain
Apne Chahny Walon Ko
U Rulaya Nahi Karty
Phool Bewafa Nahi Hoty
Ab Jo Phir Bahar Aye
Hawa Jo Kabi Lehra'aye
Jab Chaand Udas Ho Jaye
Jab Ass Murda Ho Jaye
Jab Yad Usy B Ajaye
Tab Amber Uss Se Kehna
Phool Khushbo K Bina Nahi Rehty
Phool Bewafa Nahi Hoty
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






