Qismat
Poet: sani By: m abbas, RaiwindYahan Sabko Miley Pyar Ye Zaroori To Nahi Hai
Ho Qismat Par Ikhtiyar Ye Zaroori To Nahi Hai
Dard Dil Mein Agar Hoo Tho Rooh Roti Hai
Aankhein Roye Zaar Zaar Ye Zaroori To Nahi Hai
Phoolon Ki Chubhan See Joo Howa Chalni
Ho Us Mein Koi Khar Ye Zaroori To Nahi Hai
Jo Har Ghari Khatey Hain Sang Marney Ki Qasmein
Ho Sang Jeeney Ko Taiyaar Ye Zaroori To Nahi Hai
Umeed Mein Jis Ki Teri Palkein Howi Pathhar
Usey Hoo Tera Intezar Ye Zaroori To Nahi Hai
Yaqeen Kar K Jis Ko Apni Zindagi Banoun
Usey Tujh Par Hoo Aitbar Ye Zaroori To Nahi Hai
Ban Ker Rona Khowab Badnaseebi Par Apney
Zeest See Hoo Sab Bezar Ye Zaroori To Nahi Hai
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






