Rahon Pe Nazar Rakhna Honton Pe Dua Rakhna
Poet: Arslan Aslam By: Arslan Aslam, SahiwalRahon Pe Nazar Rakhna Honton Pe Dua Rakhna
Aa Jaye Koi Shayed Darwaza Khula Rakhna
Ehsaas Ki Shamaa Ko Is Tarah Jalaa Rakhna
Apni Bhi Khabar Rakhna Us Ka Bhi Pata Rakhna
Raaton Ko Bhatakne Ki Deta Hai Saza Mujhe
Dushwaar Hai Pehlu Main Dil Tere Bina Rakhna
Logon Ko Nigaahon Se Parh Lene Ki Aadat Hai
Logon Ki Tehreeron Ko Logon Se Bacha Rakhna
Bholoon Main Agar Aye Dil Tu Yaad Dila Dena
Tanhai Ke Lamhon Ka Har Zakham Haraa Rakhna
Ik Boond Bhi Ashkon Ki Daaman Na Bhigo Paaye
Gham Uss Ki Amaanat Hai Palkon Pe Sajaa Rakhna
Iss Tarah Qateel Us Se Bartaao Rahe Apna
Woh Bhi Na Bura Maane Dil Ka Bhi Kahaa Rakhna
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






