Poetries by Sania Sana
تیری آنکھوں میں جو چمکتے ستارے ہیں تیری آنکھوں میں جو چمکتے ستارے ہیں
دل کو بھاتے کتنے دلکش وہ نظارے ہیں
تیرے چہرے پر دھمکتی کئیں مسکراہٹیں
میری جاں یہی تو میری زندگی کی بہاریں ہیں
میری آنکھوں سے تیرے خواب دیکھوں میں
میری جاں یہی تو میرے جینے کے سہارے ہیں
جو میری سماعت کو تسکین دیتے ہیں
دل کو کتنے وہ تیرے لفظ پیارے ہیں
جہاں توں روک جائے میں وہیں بسیرا کر لوں
تیرے دیدار کے تو سارے ہی موسم سہانے ہیں
تجھے چھو کر جو ہوا گزرتی ہے مدہوش لگتی ہے
یوں لگتا ہے یہ بھی سب تیرے ہی دیوانے ہے saniasana
دل کو بھاتے کتنے دلکش وہ نظارے ہیں
تیرے چہرے پر دھمکتی کئیں مسکراہٹیں
میری جاں یہی تو میری زندگی کی بہاریں ہیں
میری آنکھوں سے تیرے خواب دیکھوں میں
میری جاں یہی تو میرے جینے کے سہارے ہیں
جو میری سماعت کو تسکین دیتے ہیں
دل کو کتنے وہ تیرے لفظ پیارے ہیں
جہاں توں روک جائے میں وہیں بسیرا کر لوں
تیرے دیدار کے تو سارے ہی موسم سہانے ہیں
تجھے چھو کر جو ہوا گزرتی ہے مدہوش لگتی ہے
یوں لگتا ہے یہ بھی سب تیرے ہی دیوانے ہے saniasana
آیا رمضان آیا رمضان آیا رمضان آیا رمضان آیا رمضان آیا رمضان
باری تعالی لئے فرمان آیا رمضان آیا رمضان
خوشیوں کا لئے پیغام آیا رمضان آیا رمضان
ہر سو رحمتوں کی فضا ہر گھر ہر رب کی عطا
ظلمتوں کا ہوا احتتام آیا رمضان آیا رمضان
مبارک ہوئی ہر صبح وشام آیا رمضان آیا رمضان
ماہ ہے یہ خدا کا رحمتوں بخشیشوں برکتوں کا
مبارک ہوئی ہر جسم وجان آیا رمضان آیا رمضان
خدا کا انسانیت پہ انعام رسول خدا کا فرمان
قید ہوا شیطان آیا رمضان آیا رمضان sania sana
باری تعالی لئے فرمان آیا رمضان آیا رمضان
خوشیوں کا لئے پیغام آیا رمضان آیا رمضان
ہر سو رحمتوں کی فضا ہر گھر ہر رب کی عطا
ظلمتوں کا ہوا احتتام آیا رمضان آیا رمضان
مبارک ہوئی ہر صبح وشام آیا رمضان آیا رمضان
ماہ ہے یہ خدا کا رحمتوں بخشیشوں برکتوں کا
مبارک ہوئی ہر جسم وجان آیا رمضان آیا رمضان
خدا کا انسانیت پہ انعام رسول خدا کا فرمان
قید ہوا شیطان آیا رمضان آیا رمضان sania sana
خواب بھی نیند سے مل کے رویا کرتا ہے میرا ماضی اکثر مجھ سے لپٹ کے رویا کرتا ہے
میرے پیروں کے چھالوں کو چوم کے رویا کرتا ہے
میرا سایہ بھی مجھ سے ضد نہیں کرتا
چھپ جاؤں اندھیرے میں مجھے ڈھونڈ کے رویا کرتا ہے
زندگی کئی انگینت سوال کرتی ہے مجھ سے
میں مسکراہ دوں وقت نظر جھکا کے رویا کرتا ہے
جو کبھی بھول سے آنکھ نم ہو جائے میری
آنسو بھی میری آنکھ سے بچھڑ کے رویا کرتا ہے
مچلتی ہوئی کئی حسرتوں کو جب سے میں نے دفن کیا
دور سے دیکھ کر مجھے ارماں رویا کرتا ہے
نیند بھی تو آتی نہیں کچھ ایسا حال ہے اپنا
خواب بھی نیند سے مل کے رویا کرتا ہے
میری زندگی کا حاصل بس اتنا ہی رہا
قصہ اے محبت دو لفظوں میں سمٹ کے رویا کرتا ہے sania sana
میرے پیروں کے چھالوں کو چوم کے رویا کرتا ہے
میرا سایہ بھی مجھ سے ضد نہیں کرتا
چھپ جاؤں اندھیرے میں مجھے ڈھونڈ کے رویا کرتا ہے
زندگی کئی انگینت سوال کرتی ہے مجھ سے
میں مسکراہ دوں وقت نظر جھکا کے رویا کرتا ہے
جو کبھی بھول سے آنکھ نم ہو جائے میری
آنسو بھی میری آنکھ سے بچھڑ کے رویا کرتا ہے
مچلتی ہوئی کئی حسرتوں کو جب سے میں نے دفن کیا
دور سے دیکھ کر مجھے ارماں رویا کرتا ہے
نیند بھی تو آتی نہیں کچھ ایسا حال ہے اپنا
خواب بھی نیند سے مل کے رویا کرتا ہے
میری زندگی کا حاصل بس اتنا ہی رہا
قصہ اے محبت دو لفظوں میں سمٹ کے رویا کرتا ہے sania sana
کوڑیوں کے داموں یہ محبت کیوں نہیں بکتی اتنی بھی تو رفاقت اچھی نہیں اے دل
لوگ پلٹ جائیں تو خاکی تن میں جان نہیں بچتی
عجب سی دشمنی ہے میری سانسوں کو مجھ سے
میں خلاصی چاہوں تن سے میر ساتھ نہیں دیتی
قربتوں کے رستے میں کانٹے ہی تو ملتے ہیں
جانے چوٹ کھانے کی لذت کیوں نہیں مٹتی
فطرت کے آئینے میں خود کو دیکھوں تو اکثرسوچوں
کوڑیوں کے داموں یہ محبت کیوں نہیں بکتی
ہاتھوں کی لکیروں میں کیئں آدھے ادھورے نام
پھر تقدیر کے سکندر کو اک وہ ہی صورت کیوں نہیں دیکھتی
عشق ہی سوال ہے تو عشق ہی جواب ہے
تو پھر آنکھوں کی نمکین بارش کیوں نہیں روکتی sania sana
لوگ پلٹ جائیں تو خاکی تن میں جان نہیں بچتی
عجب سی دشمنی ہے میری سانسوں کو مجھ سے
میں خلاصی چاہوں تن سے میر ساتھ نہیں دیتی
قربتوں کے رستے میں کانٹے ہی تو ملتے ہیں
جانے چوٹ کھانے کی لذت کیوں نہیں مٹتی
فطرت کے آئینے میں خود کو دیکھوں تو اکثرسوچوں
کوڑیوں کے داموں یہ محبت کیوں نہیں بکتی
ہاتھوں کی لکیروں میں کیئں آدھے ادھورے نام
پھر تقدیر کے سکندر کو اک وہ ہی صورت کیوں نہیں دیکھتی
عشق ہی سوال ہے تو عشق ہی جواب ہے
تو پھر آنکھوں کی نمکین بارش کیوں نہیں روکتی sania sana
ابھی تو رات باقی ہے ابھی ابھی تو شام ہوئی ہے
ابھی تو رات باقی ہے
ابھی تو دل اداس ہے
یادوں کی سوغات باقی ہے
کوئی چھوڑ کر چلا جائے تو کیا
ابھی جسم کا تعلق روح سے باقی ہے
آنکھوں سے شبنم گرئے موتی بن کر
ابھی دل کی زمیں کی راکھ باقی ہے
اداسیاں کب چھوڑتی ہیں تنہا مجھے
جب تک جسم میں جان باقی ہے
دھوئیں تو کس پاکیزہ آب سے
ماضی کے پنوں پر جو درد کے داغ باقی ہیں sania sana
ابھی تو رات باقی ہے
ابھی تو دل اداس ہے
یادوں کی سوغات باقی ہے
کوئی چھوڑ کر چلا جائے تو کیا
ابھی جسم کا تعلق روح سے باقی ہے
آنکھوں سے شبنم گرئے موتی بن کر
ابھی دل کی زمیں کی راکھ باقی ہے
اداسیاں کب چھوڑتی ہیں تنہا مجھے
جب تک جسم میں جان باقی ہے
دھوئیں تو کس پاکیزہ آب سے
ماضی کے پنوں پر جو درد کے داغ باقی ہیں sania sana
میرے مولا توں میرے عیبوں کو چھپا لینا میرے مولا توں میرے عیبوں کو چھپا لینا
روز مخشر کالی کملی والے کی چادر تے جگہ دینا
میں نے مانا سرکش نادار گناہگار ہوں میں بہت
میرے مولا توں میرے گناہوں کو معاف فرما دینا
بڑی روسوائی ہو گئی گر میرے عیب ظاہر ہو گئے
میرے مولا روز مخشر مجھے ندامت سے بچا لینا
میری جھولی میں خطاؤں کے سواہ کچھ بھی تو نہیں
میرے مولا روز مخشر مجھے اپنی رحمت سے نواز دینا
کوئی اچھا عمل بھی تو نہیں میرے نامہ اعمال میں
تیرے در سے کوئی خالے ہاتھ نہیں لوٹا میری امید کو بنائے رکھنا sania sana
روز مخشر کالی کملی والے کی چادر تے جگہ دینا
میں نے مانا سرکش نادار گناہگار ہوں میں بہت
میرے مولا توں میرے گناہوں کو معاف فرما دینا
بڑی روسوائی ہو گئی گر میرے عیب ظاہر ہو گئے
میرے مولا روز مخشر مجھے ندامت سے بچا لینا
میری جھولی میں خطاؤں کے سواہ کچھ بھی تو نہیں
میرے مولا روز مخشر مجھے اپنی رحمت سے نواز دینا
کوئی اچھا عمل بھی تو نہیں میرے نامہ اعمال میں
تیرے در سے کوئی خالے ہاتھ نہیں لوٹا میری امید کو بنائے رکھنا sania sana
کبھی میری معصوم مسکراہٹ کو ٹال کر تو دیکھو اپنے خیالوں سے جاناں میرا خیال نکال کر تو دیکھو
اپنی زندگی کے رنگوں سے میرا رنگ اتار کر تو دیکھو
تجھے تنہا کر دے گا تیرآ ہی سایہ آزما کر دیکھ لینا
اپنے ساتھ اپنے سیائے کو اندھیرے میں ڈال کر تو دیکھو
محبت تو بے معانی ہو جائے گئی تیرے لئیے بھی
اپنی محبتوں سے میرا نام نکال کر تو دیکھو
میں تجھ سے نظر ملاؤں ملا کر مسکرا دوں
کبھی میری معصوم مسکراہٹ کو ٹال کر تو دیکھو
توں مجھ میں روح کی طرح دل کی ڈھرکن کی طرح ہے
کبھی دل سے تم دل کی ڈھرکن کو مٹا کر تو دیکھو Sania Sana
اپنی زندگی کے رنگوں سے میرا رنگ اتار کر تو دیکھو
تجھے تنہا کر دے گا تیرآ ہی سایہ آزما کر دیکھ لینا
اپنے ساتھ اپنے سیائے کو اندھیرے میں ڈال کر تو دیکھو
محبت تو بے معانی ہو جائے گئی تیرے لئیے بھی
اپنی محبتوں سے میرا نام نکال کر تو دیکھو
میں تجھ سے نظر ملاؤں ملا کر مسکرا دوں
کبھی میری معصوم مسکراہٹ کو ٹال کر تو دیکھو
توں مجھ میں روح کی طرح دل کی ڈھرکن کی طرح ہے
کبھی دل سے تم دل کی ڈھرکن کو مٹا کر تو دیکھو Sania Sana