کبھی میری معصوم مسکراہٹ کو ٹال کر تو دیکھو
Poet: SANIA SANA By: Sania Sana, Sodanاپنے خیالوں سے جاناں میرا خیال نکال کر تو دیکھو
اپنی زندگی کے رنگوں سے میرا رنگ اتار کر تو دیکھو
تجھے تنہا کر دے گا تیرآ ہی سایہ آزما کر دیکھ لینا
اپنے ساتھ اپنے سیائے کو اندھیرے میں ڈال کر تو دیکھو
محبت تو بے معانی ہو جائے گئی تیرے لئیے بھی
اپنی محبتوں سے میرا نام نکال کر تو دیکھو
میں تجھ سے نظر ملاؤں ملا کر مسکرا دوں
کبھی میری معصوم مسکراہٹ کو ٹال کر تو دیکھو
توں مجھ میں روح کی طرح دل کی ڈھرکن کی طرح ہے
کبھی دل سے تم دل کی ڈھرکن کو مٹا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






