تیری آنکھوں میں جو چمکتے ستارے ہیں
Poet: sania sana By: saniasana, sodanتیری آنکھوں میں جو چمکتے ستارے ہیں
دل کو بھاتے کتنے دلکش وہ نظارے ہیں
تیرے چہرے پر دھمکتی کئیں مسکراہٹیں
میری جاں یہی تو میری زندگی کی بہاریں ہیں
میری آنکھوں سے تیرے خواب دیکھوں میں
میری جاں یہی تو میرے جینے کے سہارے ہیں
جو میری سماعت کو تسکین دیتے ہیں
دل کو کتنے وہ تیرے لفظ پیارے ہیں
جہاں توں روک جائے میں وہیں بسیرا کر لوں
تیرے دیدار کے تو سارے ہی موسم سہانے ہیں
تجھے چھو کر جو ہوا گزرتی ہے مدہوش لگتی ہے
یوں لگتا ہے یہ بھی سب تیرے ہی دیوانے ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






