خواب بھی نیند سے مل کے رویا کرتا ہے
Poet: sania sana By: sania sana, sodanمیرا ماضی اکثر مجھ سے لپٹ کے رویا کرتا ہے
میرے پیروں کے چھالوں کو چوم کے رویا کرتا ہے
میرا سایہ بھی مجھ سے ضد نہیں کرتا
چھپ جاؤں اندھیرے میں مجھے ڈھونڈ کے رویا کرتا ہے
زندگی کئی انگینت سوال کرتی ہے مجھ سے
میں مسکراہ دوں وقت نظر جھکا کے رویا کرتا ہے
جو کبھی بھول سے آنکھ نم ہو جائے میری
آنسو بھی میری آنکھ سے بچھڑ کے رویا کرتا ہے
مچلتی ہوئی کئی حسرتوں کو جب سے میں نے دفن کیا
دور سے دیکھ کر مجھے ارماں رویا کرتا ہے
نیند بھی تو آتی نہیں کچھ ایسا حال ہے اپنا
خواب بھی نیند سے مل کے رویا کرتا ہے
میری زندگی کا حاصل بس اتنا ہی رہا
قصہ اے محبت دو لفظوں میں سمٹ کے رویا کرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






