Poetries by Shaikh Khalid Zahid

ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیاسے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماوں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا
 
شیخ خالد زاہد
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتے ہیں
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیا سے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماؤں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا
Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ  چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آہیںدیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، سراپا محبت کی تصویر دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں اڑتے پھرتے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میں الم آزادی بے خوف دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلےکی بھرمار دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہدائے کشمیر کے رخسار دیکھتے ہیں
خاموشی سے بیٹھے دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن سسروں پر باندھے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسےلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو لپکتا ہے اور مرتا ہے
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
 
Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
 
Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
 
Shaikh Khalid Zahid
یادیں خوبصورت ہوتی ہیں آؤ کے دل کو کچھ بہلائیں
ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں
چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں
سلام کریں سب کو
اور دیکھ دیکھ مسکرائیں
جہاں گلی کے کونے پر
یونہی گھنٹوں گزر جائیں
نا کوئی موبائل کی گھنٹی بچے
نا ایس ایم ایس دھیان بٹائیں
گرمیوں کی دوپہر میں
کلفی والے کی ٹن ٹن پر
دبے پائوں گھر سے نکل جائیں
اس آس پر ادھر ادھر پھرنا
کہ وہ لکڑی کا دروازہ آہستہ کھلے
جیسے اسے بھی کسی کے جاگنے کا اندیشہ ہو
پھر کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے احاطہ کھلے
چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلے
اور تھوڑا سا پردہ ہٹے، دور جاتے کلفی والے کی صدا لگے
کن انکھیوں کا کوئی اشارہ ملے
کلفی لادینے کی استداعا کرے
جلدی جلدی بالوں کو انگلیوں سے سوارنا
کسی اور کے آجانے سے خوفزدہ سا
وہ جلدی میں پیسے پکڑتے
انگلیوں کا جذب ہوجانا
یوں مڑ کے بھاگنا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
مگر وہ دل کا دھڑکنا کے رکا ہی نہیں
کلفی کے گرجانے سے چونک جاتا ہوں
میں ویسے ہی مسکراتے واپس آجاتا ہوں
سفید بالوں میں کنگی کرتے
آئینے کے سامنے خود کو پاتا ہوں
اداس جب بھی ہوتا ہوں
تو یونہی کبھی پرانے محلے میں چلا جاتا ہوں
یا پھر اسکول کی ڈیسک میں
کسی بچے کو ربر مار کر چھپ جاتا ہوں
Shaikh Khalid Zahid
دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے تم نے خواب سے نکل کر
نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر
کبھی درو دیوار کے اس پار
چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں
اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں
(کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی جمتا ہو)
کچرا چنتے بچے کے ہاتھوں پر بار بار لگتی
کھروچوں کو محسوس کیا ہے
تم نے دیکھا ہے دسمبر میں
ہمارے نونہالوں کو ،مستقبل کے معماروں کو
بزدل دشمن نے کس طرح سے
بارود سے زخم دئیے تھے
اور وہ زخم جانبر بھی نا ہوسکے تھے
ایک معصوم سی بچی کل میرے پاس سے گزرتے ہوئے
بغل میں چھوٹی سی گڑیا دبائے
اپنی ماں کے ہاتھوں کوسختی سے جکڑے ہوئے(جیسے خوفزدہ ہو)
سہمی سی آواز میں کہتی جا رہی تھی
کہ ماں یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں
اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو موت کی نیند سلایا جاتا ہے
پھر میری سماعتیں سرد ہواؤں کے جھوکوں سے سن ہوگئیں
دھڑکنیں تو جیسے دل میں سمٹنے سے قاصر ہوئے جاتی تھیں
نیلم کی جیسے آنکھوں سے درد بہہتاجا رہا تھا
دسمبر کی سردی تھی
میرے کانوں میں بچی کے الفاظ گونج بن کر جم چکے تھے
ماں کیا یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں۔۔۔۔۔
بچوں کی باتوں سے اب خوف آتا ہے
ہمیں تو دسمبر سے خوف آتا ہے
یہ ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے
دل پر کھروچ لگاتا جا رہا ہے ، دسمبر گزرتا جا رہا ہے
Shaikh Khalid Zahid