Poetries by Shaikh Khalid Zahid
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیاسے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماوں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا
شیخ خالد زاہد
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیاسے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماوں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا
شیخ خالد زاہد
سیاست کو چھوڑو ریاست کو بچالو کچھ وقت کے لئے سیاست سے باز آجائیے
اور ڈوبتی ہوئی ریاست کے پاس آجائیے
اپنی اپنی کرسیوں کو بچانے والوں
وطن عزیز کو کھانے والوں
گھر بار ہمارے ڈوب گئے ہیں
ہاتھوں سے ہمارے،بچے چھوٹ گئے ہیں
ہمارے پاس آہیں ہیں سسکیاں ہیں
اور ساتھ تمھاری جھوٹی تسلیاں ہیں
ہم کہاں ہیں اب تو ہمیں معلوم نہیں
دریا میں ہیں یا سمندر میں معلوم نہیں
چھت آسمان ہے اور پانی پر بسیرا ہے
باقی تو سب طرف بس اندھیرا ہے
تصویریں بھی بن رہی ہیں
ویڈیو بھی چل رہی ہیں
کوئی بچے کی لاش دیکھارہا ہے
کوئی گور دبی زندگی کا ساتھ نبہا رہا ہے
تم کیسے سمجھو گے دکھ درد کے معنی
تم کو تو لگتی ہے یہ سب ایک کہانی
جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر
تم نے اپنے بچوں کو ہے سنانی
ہماری آنکھیں تمھارا تعقب کریں گی
ابر جو رحمت بن کر برستا تو ہے
میسر ہے تمیں زمین شکرمنالو
مل رہا ہے جو وقت تو رب سے نبہا لو
سیاست ہوتی رہی ہے ،پھر ہوتی رہے گی
یہ جنتا رہے گی تو پھر ہوتی رہے گی شیخ خالد زاہد
اور ڈوبتی ہوئی ریاست کے پاس آجائیے
اپنی اپنی کرسیوں کو بچانے والوں
وطن عزیز کو کھانے والوں
گھر بار ہمارے ڈوب گئے ہیں
ہاتھوں سے ہمارے،بچے چھوٹ گئے ہیں
ہمارے پاس آہیں ہیں سسکیاں ہیں
اور ساتھ تمھاری جھوٹی تسلیاں ہیں
ہم کہاں ہیں اب تو ہمیں معلوم نہیں
دریا میں ہیں یا سمندر میں معلوم نہیں
چھت آسمان ہے اور پانی پر بسیرا ہے
باقی تو سب طرف بس اندھیرا ہے
تصویریں بھی بن رہی ہیں
ویڈیو بھی چل رہی ہیں
کوئی بچے کی لاش دیکھارہا ہے
کوئی گور دبی زندگی کا ساتھ نبہا رہا ہے
تم کیسے سمجھو گے دکھ درد کے معنی
تم کو تو لگتی ہے یہ سب ایک کہانی
جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر
تم نے اپنے بچوں کو ہے سنانی
ہماری آنکھیں تمھارا تعقب کریں گی
ابر جو رحمت بن کر برستا تو ہے
میسر ہے تمیں زمین شکرمنالو
مل رہا ہے جو وقت تو رب سے نبہا لو
سیاست ہوتی رہی ہے ،پھر ہوتی رہے گی
یہ جنتا رہے گی تو پھر ہوتی رہے گی شیخ خالد زاہد
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتے ہیں
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیا سے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماؤں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا Shaikh Khalid Zahid
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیا سے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماؤں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آہیںدیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، سراپا محبت کی تصویر دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں اڑتے پھرتے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میں الم آزادی بے خوف دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلےکی بھرمار دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہدائے کشمیر کے رخسار دیکھتے ہیں
خاموشی سے بیٹھے دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن سسروں پر باندھے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسےلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو لپکتا ہے اور مرتا ہے
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آہیںدیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، سراپا محبت کی تصویر دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں اڑتے پھرتے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میں الم آزادی بے خوف دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلےکی بھرمار دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہدائے کشمیر کے رخسار دیکھتے ہیں
خاموشی سے بیٹھے دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن سسروں پر باندھے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسےلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو لپکتا ہے اور مرتا ہے
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
دل سے ہوکر جو تھا جان سے گزر گیا دل سے ہوکر جو تھا جان سے گزر گیا
راستہ بدلہ تو ایسا، ہر عہد سے مکر گیا
بہت شناسائی تھی درمیاں ، دونوں کے
پھر ہواکیا، معلوم نہیں کون کدھر گیا؟
اس نے مہلت نہیں دی کہ سنبھل جاتے
ایسا تھا الجھایا، سلجھانے میں سب بکھر گیا
سب کو جوڑنے کی چاہ تھی، جڑے رہے سب
جہد مسلسل کی نظر ہوگیا، جب وہ بچھڑ گیا
طلب کی تڑپ اتنی تھی مل ہی جاتی خالد
تیرے ساتھ تھی جو خواہش تو جدھر گیا Sh. Khalid Zahid
راستہ بدلہ تو ایسا، ہر عہد سے مکر گیا
بہت شناسائی تھی درمیاں ، دونوں کے
پھر ہواکیا، معلوم نہیں کون کدھر گیا؟
اس نے مہلت نہیں دی کہ سنبھل جاتے
ایسا تھا الجھایا، سلجھانے میں سب بکھر گیا
سب کو جوڑنے کی چاہ تھی، جڑے رہے سب
جہد مسلسل کی نظر ہوگیا، جب وہ بچھڑ گیا
طلب کی تڑپ اتنی تھی مل ہی جاتی خالد
تیرے ساتھ تھی جو خواہش تو جدھر گیا Sh. Khalid Zahid
جانے کیوں لوگ مر جاتے ہیں یونہی تنہا کر جاتے ہیں
جانے کیوں لوگ مر جاتے ہیں
دل کی حالتوں سے بےخبر
وعدوں سے بھی مکر جاتے ہیں
زندگی بھر تھکن سے آلودہ
نہا دھو کر کفن میں نکھر جاتے ہیں
آہیں سسکیاں تو سنتے ہی نہیں
امکان سے بھی آگے گزر جاتے ہیں
اداسی بھری نظریں تعاقب کرتی ہیں خالد
ہم تنہائی اوڑھے جدھر جاتے ہیں Shaikh Khalid Zahid
جانے کیوں لوگ مر جاتے ہیں
دل کی حالتوں سے بےخبر
وعدوں سے بھی مکر جاتے ہیں
زندگی بھر تھکن سے آلودہ
نہا دھو کر کفن میں نکھر جاتے ہیں
آہیں سسکیاں تو سنتے ہی نہیں
امکان سے بھی آگے گزر جاتے ہیں
اداسی بھری نظریں تعاقب کرتی ہیں خالد
ہم تنہائی اوڑھے جدھر جاتے ہیں Shaikh Khalid Zahid
رستی ہوئی سسکیاں! بند دروازوں اور کھڑکیوں سے رستی ہوئی سسکیاں
یہاں سیکڑوں میل دور سماعتوں پر دستک دے رہی ہیں
سسکیاں جب شور کی صورت اختیار کرلینگی
تویہ سارے بند کھڑکیاں اور دروازے توڑ دینگی
پھر ایسا شور ہوگا کہ کچھ سنائی نہیں دیگا، نا ہی سجھائی دیگا
سماعتوں سے، ساری حسوں سے محروم کردینگی
ایک میدانِ حشر، روزِ محشر لگے گا
ایک حشر کشمیر میں بپا ہوا ہے
دنیا کے منصفوں، ظالموں کا ساتھ دینے والوں
یہ رساؤ اور زیادہ دیر نہیں تھمے گا،جلد ہی بہاؤ بنے گا
اوراس بہاؤ کی شدت تمھاری سوچ سے سوا ہوگی
یہ بہاؤ موت کو خوفزدہ کردیگا
بس اب صبر کا دامن چھوٹا چاہتا ہے
سسکیوں کے رساؤ کا بہاؤ حشر ہوا چاہتا ہے
ک سے کشمیر ہے اور ک سے ہی کربلا ہے
اہل کشمیر یہ ٹھان چکے ہیں
بس اب مظلوم نہیں رہنا اور کوئی گریہ نہیں کرنا
پھر اسلام زندہ ہونے لگا ہے کشمیر کی فتح کیساتھ
شمشیر کیساتھ، شبیر کیساتھ
Shaikh Khalid Zahid
یہاں سیکڑوں میل دور سماعتوں پر دستک دے رہی ہیں
سسکیاں جب شور کی صورت اختیار کرلینگی
تویہ سارے بند کھڑکیاں اور دروازے توڑ دینگی
پھر ایسا شور ہوگا کہ کچھ سنائی نہیں دیگا، نا ہی سجھائی دیگا
سماعتوں سے، ساری حسوں سے محروم کردینگی
ایک میدانِ حشر، روزِ محشر لگے گا
ایک حشر کشمیر میں بپا ہوا ہے
دنیا کے منصفوں، ظالموں کا ساتھ دینے والوں
یہ رساؤ اور زیادہ دیر نہیں تھمے گا،جلد ہی بہاؤ بنے گا
اوراس بہاؤ کی شدت تمھاری سوچ سے سوا ہوگی
یہ بہاؤ موت کو خوفزدہ کردیگا
بس اب صبر کا دامن چھوٹا چاہتا ہے
سسکیوں کے رساؤ کا بہاؤ حشر ہوا چاہتا ہے
ک سے کشمیر ہے اور ک سے ہی کربلا ہے
اہل کشمیر یہ ٹھان چکے ہیں
بس اب مظلوم نہیں رہنا اور کوئی گریہ نہیں کرنا
پھر اسلام زندہ ہونے لگا ہے کشمیر کی فتح کیساتھ
شمشیر کیساتھ، شبیر کیساتھ
Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
کشمیر کا نوحہ چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں
برف پوش وادیوں میں سلگتی آگ دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
سبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، محبتوں کی بنی تصویر یں دیکھتے ہیں
سلگتے چناروں کی، انگار وں پر لوٹتی بے خوا بی دیکھتے ہیں
ننھی ننھی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں
ننھے ننھے ہاتھوں میںآزادی کابیخوف الم دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
بیقرار و بیکل سے قدم خود مقتل کی راہ چنتے دیکھتے ہیں
جھریوں سے بھرے چہروں پر عزم اور حوصلے پہاڑ دیکھتے ہیں
دنیا سکوں ڈھونڈتی ہے در بدر،ہم شہیدوں کے رخسار دیکھتے ہیں
دشمن کی عیاری و مکاری کے گہرے وار دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کفن ساتھ لئے گھومتے ہیں جوان سارے
آؤ کیسیلڑتے ہیں بے تیغ سپاہی دیکھتے ہیں
دنیا کی بے ثباتی کی منہ بولتی تصویر دیکھتے ہیں
پھرظلم اور بربریت کی عالمی تشہیر دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
کشمیر ایک وادی نہیں ، وادی میں ایک گھر کی طرح ہے
جس کا ہر فرد گھر بچانے کو کیسے مرتا ہے ،دیکھتے ہیں
یونہی نہیں دل بھرآتا، یونہی آنکھیں نہیں بھیگتیں
کیسے قابو میں رکھتے ہیں جب لاشوں کو دشمن کی ٹھوکروں میں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر دیکھتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
Shaikh Khalid Zahid
یہ وسعتِ نظر کا کمال تھا یہ وسعتِ نظر کا کمال تھا
ہر طرف تو اور تیرا خیال تھا
بد گمانو کو بھی خوش گمان تھا
یہ بھی کرشمہ حسن و جمال تھا
گزار تو لیا ہے تیرے بغیر بھی
وہ وقت بھی گویہ وبال تھا
وہ جو ہمنوا تھے کیوں تنہا کر گئے
سفر کی صعوبتوں کا یہ سوال تھا
دل میں گھر کر جائے شائد، خالد
ابھی لفظوں میں روح کا احتمال تھا Shaikh Khalid Zahid
ہر طرف تو اور تیرا خیال تھا
بد گمانو کو بھی خوش گمان تھا
یہ بھی کرشمہ حسن و جمال تھا
گزار تو لیا ہے تیرے بغیر بھی
وہ وقت بھی گویہ وبال تھا
وہ جو ہمنوا تھے کیوں تنہا کر گئے
سفر کی صعوبتوں کا یہ سوال تھا
دل میں گھر کر جائے شائد، خالد
ابھی لفظوں میں روح کا احتمال تھا Shaikh Khalid Zahid
غزل روٹھی ہوئی اس سے زندگانی دیکھی نہیں جاتی
آنکھوں میں ٹہری ہجر کی کہانی دیکھی نہیں جاتی
سہمی سی رہتی ہے آب و ہوا اب بھی شہروں کی
دشتِ کرب و بلا کی جیسی ویرانی دیکھی نہیں جاتی
پیوند لگے لباس میں کیو ں ہنستے مسکراتے لوگ
زرق برق چہروں کی پشیمانی دیکھی نہیں جاتی
ہر ایک سے ملتا ہوں مسکراتے ہوئے
آنکھوں میں کسی کی طغیانی دیکھی نہیں جاتی
بس یونہی چل پڑتا ہوں ساتھ اسکے خالد
مجھ سے تنہائی کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی
Shaikh Khalid Zahid
آنکھوں میں ٹہری ہجر کی کہانی دیکھی نہیں جاتی
سہمی سی رہتی ہے آب و ہوا اب بھی شہروں کی
دشتِ کرب و بلا کی جیسی ویرانی دیکھی نہیں جاتی
پیوند لگے لباس میں کیو ں ہنستے مسکراتے لوگ
زرق برق چہروں کی پشیمانی دیکھی نہیں جاتی
ہر ایک سے ملتا ہوں مسکراتے ہوئے
آنکھوں میں کسی کی طغیانی دیکھی نہیں جاتی
بس یونہی چل پڑتا ہوں ساتھ اسکے خالد
مجھ سے تنہائی کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی
Shaikh Khalid Zahid
ہم اور کانچ کا گلدان کمرے کی میز پررکھا ہوا
کانچ کا اک خوبصورت گلدان
ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے
ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر
گلدان کا میز پر سے گرنا
ایک چھنناکے کی آواز کا ابھرنا
کانچ کا فرش پر بکھرنا
ان سنی، کسی کی آہ کا بھرنا
پاس ہی کھڑی ذی روح کا چیخنا
اس شور شرابے کے درمیاں
گلدان کا ٹوٹنا اور سمٹنا
(جیسے کفن دفن جنازے کا اٹھنا)
اور پھر خاموشیوں میں سسکیوں کا ابھرنا
پھر سب ویسا ہی جیسا گلدان کے ہوتے ہوئے تھا
سرگوشیوں سے آہستہ آہستہ آوازوں کا ابھرنا
یوں سمجھ لیجئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا
بس میز خالی تھی جوکہ چارپائی جیسی تھی
وہ کھڑکی کس نے ادھ کھلی چھوڑی تھی
جیسے میز کی آنکھیں ہوں
اور وہ ہوا کے جھونکے سے سوالی ہوں
وہ جسے ابتک بہت سنبھال رکھا تھا
وہ گلدان اب میز پر نہیں تھا
جیسے کوئی ذی روح منوں مٹی تلے دبا دیا گیا ہو
کبھی نا جاگنے کیلئے، کبھی نا کچھ کہنے کیلئے
خاموشی سے سوگیا ہو Shaikh Khalid Zahid
کانچ کا اک خوبصورت گلدان
ادھ کھلی کھڑکی سے آنے والے
ہواکے تیز جھونکے کی زد میں آکر
گلدان کا میز پر سے گرنا
ایک چھنناکے کی آواز کا ابھرنا
کانچ کا فرش پر بکھرنا
ان سنی، کسی کی آہ کا بھرنا
پاس ہی کھڑی ذی روح کا چیخنا
اس شور شرابے کے درمیاں
گلدان کا ٹوٹنا اور سمٹنا
(جیسے کفن دفن جنازے کا اٹھنا)
اور پھر خاموشیوں میں سسکیوں کا ابھرنا
پھر سب ویسا ہی جیسا گلدان کے ہوتے ہوئے تھا
سرگوشیوں سے آہستہ آہستہ آوازوں کا ابھرنا
یوں سمجھ لیجئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا
بس میز خالی تھی جوکہ چارپائی جیسی تھی
وہ کھڑکی کس نے ادھ کھلی چھوڑی تھی
جیسے میز کی آنکھیں ہوں
اور وہ ہوا کے جھونکے سے سوالی ہوں
وہ جسے ابتک بہت سنبھال رکھا تھا
وہ گلدان اب میز پر نہیں تھا
جیسے کوئی ذی روح منوں مٹی تلے دبا دیا گیا ہو
کبھی نا جاگنے کیلئے، کبھی نا کچھ کہنے کیلئے
خاموشی سے سوگیا ہو Shaikh Khalid Zahid
یادیں خوبصورت ہوتی ہیں آؤ کے دل کو کچھ بہلائیں
ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں
چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں
سلام کریں سب کو
اور دیکھ دیکھ مسکرائیں
جہاں گلی کے کونے پر
یونہی گھنٹوں گزر جائیں
نا کوئی موبائل کی گھنٹی بچے
نا ایس ایم ایس دھیان بٹائیں
گرمیوں کی دوپہر میں
کلفی والے کی ٹن ٹن پر
دبے پائوں گھر سے نکل جائیں
اس آس پر ادھر ادھر پھرنا
کہ وہ لکڑی کا دروازہ آہستہ کھلے
جیسے اسے بھی کسی کے جاگنے کا اندیشہ ہو
پھر کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے احاطہ کھلے
چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلے
اور تھوڑا سا پردہ ہٹے، دور جاتے کلفی والے کی صدا لگے
کن انکھیوں کا کوئی اشارہ ملے
کلفی لادینے کی استداعا کرے
جلدی جلدی بالوں کو انگلیوں سے سوارنا
کسی اور کے آجانے سے خوفزدہ سا
وہ جلدی میں پیسے پکڑتے
انگلیوں کا جذب ہوجانا
یوں مڑ کے بھاگنا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
مگر وہ دل کا دھڑکنا کے رکا ہی نہیں
کلفی کے گرجانے سے چونک جاتا ہوں
میں ویسے ہی مسکراتے واپس آجاتا ہوں
سفید بالوں میں کنگی کرتے
آئینے کے سامنے خود کو پاتا ہوں
اداس جب بھی ہوتا ہوں
تو یونہی کبھی پرانے محلے میں چلا جاتا ہوں
یا پھر اسکول کی ڈیسک میں
کسی بچے کو ربر مار کر چھپ جاتا ہوں Shaikh Khalid Zahid
ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں
چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں
سلام کریں سب کو
اور دیکھ دیکھ مسکرائیں
جہاں گلی کے کونے پر
یونہی گھنٹوں گزر جائیں
نا کوئی موبائل کی گھنٹی بچے
نا ایس ایم ایس دھیان بٹائیں
گرمیوں کی دوپہر میں
کلفی والے کی ٹن ٹن پر
دبے پائوں گھر سے نکل جائیں
اس آس پر ادھر ادھر پھرنا
کہ وہ لکڑی کا دروازہ آہستہ کھلے
جیسے اسے بھی کسی کے جاگنے کا اندیشہ ہو
پھر کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے احاطہ کھلے
چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلے
اور تھوڑا سا پردہ ہٹے، دور جاتے کلفی والے کی صدا لگے
کن انکھیوں کا کوئی اشارہ ملے
کلفی لادینے کی استداعا کرے
جلدی جلدی بالوں کو انگلیوں سے سوارنا
کسی اور کے آجانے سے خوفزدہ سا
وہ جلدی میں پیسے پکڑتے
انگلیوں کا جذب ہوجانا
یوں مڑ کے بھاگنا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
مگر وہ دل کا دھڑکنا کے رکا ہی نہیں
کلفی کے گرجانے سے چونک جاتا ہوں
میں ویسے ہی مسکراتے واپس آجاتا ہوں
سفید بالوں میں کنگی کرتے
آئینے کے سامنے خود کو پاتا ہوں
اداس جب بھی ہوتا ہوں
تو یونہی کبھی پرانے محلے میں چلا جاتا ہوں
یا پھر اسکول کی ڈیسک میں
کسی بچے کو ربر مار کر چھپ جاتا ہوں Shaikh Khalid Zahid
وقت کے ساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں
شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں
یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں
اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں
زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے
بھیج کر کہیں خود کو بلانا بھول گیا ہوں
گستاخ کہہ کر بزم سے نکالا جا رہا ہوں
شائد نظروں کو جھکانا بھول گیا ہوں
بہت خوفزدہ، سہمی سی آئی تھی نیند
آنکھوں میں اسکو بسانا بھول گیا ہوں
ملاقات کا وعدہ کر کہ تو آگیا ہوں
نا ملنے کا بہانا بنانا بھول گیا ہوں
گمنام راستوں میں کوئی بھٹکتا ہے
رستہ جسکو بتانا بھول گیا ہوں
ڈوبنے سے مجھکو روک رہا ہے خالد
جسے گھر چھوڑ کے آنا بھول گیا ہوں Shaikh Khalid Zahid
شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں
یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں
اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں
زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے
بھیج کر کہیں خود کو بلانا بھول گیا ہوں
گستاخ کہہ کر بزم سے نکالا جا رہا ہوں
شائد نظروں کو جھکانا بھول گیا ہوں
بہت خوفزدہ، سہمی سی آئی تھی نیند
آنکھوں میں اسکو بسانا بھول گیا ہوں
ملاقات کا وعدہ کر کہ تو آگیا ہوں
نا ملنے کا بہانا بنانا بھول گیا ہوں
گمنام راستوں میں کوئی بھٹکتا ہے
رستہ جسکو بتانا بھول گیا ہوں
ڈوبنے سے مجھکو روک رہا ہے خالد
جسے گھر چھوڑ کے آنا بھول گیا ہوں Shaikh Khalid Zahid
تمھاری آنکھوں میں کانٹے ہونگے ایک راستہ سمجھ کر ،میں یہ کیا کر رہا تھا
دن رات مشقت کررہا تھا
بڑھ بڑھ کرکانٹے چن رہا تھا
مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی
انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں
انگنت زبانوں میں انگنت باتیں ہیں
میری تو بہت مختصر سی جھولی ہے
جوبہت جلد بھر جائے گی
تن پر جو پیرہن ہے ان کانٹوں میں الجھ کر تار تار ہوجائے گا
مختصر زاد راہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوجائے گا
اس خار زار راستے پر کوئی نہیں آتا
تمھیں اٹھانے بھلا کون آئے گا
بھلا کون تمھاری ٹوٹتی ہمت بندھائے گا
بدن کٹتا جائے گا، زخموں سے بہتا لہوخشک ہوجائے گا
مگر یہ تو تم بھی جانتے ہو
نا تو یہ کانٹے ختم ہونگے اور نا ہی یہ باتیں تمام ہونگیں
ہاں آنکھیں بند ہونگی
جو تمھاری بھی ہونگی اور ہماری بھی ہونگی
تمھاری آنکھوں میں زمانے بھر کے کانٹے ہونگے
ہماری آنکھوں میں سہانے سپنے ہونگے Shaikh Khalid Zahid
دن رات مشقت کررہا تھا
بڑھ بڑھ کرکانٹے چن رہا تھا
مگر یہ کیا کہ یہاں توکانٹوں سے اٹی
انگنت راہیں ہیں اور ان پر لگی انگنت آنکھیں ہیں
انگنت زبانوں میں انگنت باتیں ہیں
میری تو بہت مختصر سی جھولی ہے
جوبہت جلد بھر جائے گی
تن پر جو پیرہن ہے ان کانٹوں میں الجھ کر تار تار ہوجائے گا
مختصر زاد راہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوجائے گا
اس خار زار راستے پر کوئی نہیں آتا
تمھیں اٹھانے بھلا کون آئے گا
بھلا کون تمھاری ٹوٹتی ہمت بندھائے گا
بدن کٹتا جائے گا، زخموں سے بہتا لہوخشک ہوجائے گا
مگر یہ تو تم بھی جانتے ہو
نا تو یہ کانٹے ختم ہونگے اور نا ہی یہ باتیں تمام ہونگیں
ہاں آنکھیں بند ہونگی
جو تمھاری بھی ہونگی اور ہماری بھی ہونگی
تمھاری آنکھوں میں زمانے بھر کے کانٹے ہونگے
ہماری آنکھوں میں سہانے سپنے ہونگے Shaikh Khalid Zahid
مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی ویران اندر سے کر رہا ہے کوئی
مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی
وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے
خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی
ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا
سفرطویل دیکھ کر مکر رہا ہے کوئی
کڑی دھوپ میں بھی تپش نہیں
ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہے کوئی
دل کے سرتال بگڑے ہوئے ہیں
مجھ سے جیسے بچھڑرہا ہے کوئی
گرد ہی گردہے اور ہم راہی
ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی Shaikh Khalid Zahid
مجھ سا مجھ میں اتر رہا ہے کوئی
وقت سا تحلیل ہوا چاہتا ہے
خاموش جان سے گزر رہا ہے کوئی
ساتھ چلنے کا وعدہ تو کر لیا تھا
سفرطویل دیکھ کر مکر رہا ہے کوئی
کڑی دھوپ میں بھی تپش نہیں
ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا ہے کوئی
دل کے سرتال بگڑے ہوئے ہیں
مجھ سے جیسے بچھڑرہا ہے کوئی
گرد ہی گردہے اور ہم راہی
ہرطرف جیسے بکھر رہا ہے کوئی Shaikh Khalid Zahid
ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے
جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے
آنکھوں میں اسکی کوئی منظرجم گیا ہو جیسے
میرے ساتھ ہوکر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے
وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے زیادہ
کہتی توکچھ بھی نہیں بس گھورتی رہتی ہے
میں اس پر مسلط کیا گیا ہوں جیسے
کسی زحمت کیطرح مجھے جھیلتی رہتی ہے
ایک خود ساختہ خدا سا دکھتا ہوں اسکو
میرے سامنے بیٹھ کر پوجتی رہتی ہے
میری جستجو میری تگودو نامعلوم ہے خالد
سمندر میں جیسے ناؤکوئی ڈولتی رہتی ہے Shaikh Khalid Zahid
جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے
آنکھوں میں اسکی کوئی منظرجم گیا ہو جیسے
میرے ساتھ ہوکر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے
وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے زیادہ
کہتی توکچھ بھی نہیں بس گھورتی رہتی ہے
میں اس پر مسلط کیا گیا ہوں جیسے
کسی زحمت کیطرح مجھے جھیلتی رہتی ہے
ایک خود ساختہ خدا سا دکھتا ہوں اسکو
میرے سامنے بیٹھ کر پوجتی رہتی ہے
میری جستجو میری تگودو نامعلوم ہے خالد
سمندر میں جیسے ناؤکوئی ڈولتی رہتی ہے Shaikh Khalid Zahid
ایک بے تکی سی غزل جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں کی روائت چھوڑ دی ہے
بس یوں سمجھ لیجئےکہ محبت کرنا چھوڑ دی ہے
حاضری تو سارے خدائوں کے حضور ہوتی ہیں
سجدے تو سب کرتے ہیں، عبادت کرنا چھوڑ دی ہے
مونٹیسری ڈے کئیر سینٹر پرورش کے ذمہ دار ہیں
بزرگوں کی صحبت ترک نہیں کی بس چھوڑ دی ہے
آپ جناب جیسے الفاظ اجنبی سے ہوگئے ہیں
جب سے ادب نے بات کرنا چھوڑ دی ہے
ہر ایک دستیاب ہے اب سوشل میڈیا پر
لوگوں نے بلمشافہ ملاقات چھوڑ دی ہے
کسی بات سے دل آزاری نا ہوجائےخالد
ہم نے گفتگو طویل کرنا چھوڑ دی ہے Shaikh Khalid Zahid
بس یوں سمجھ لیجئےکہ محبت کرنا چھوڑ دی ہے
حاضری تو سارے خدائوں کے حضور ہوتی ہیں
سجدے تو سب کرتے ہیں، عبادت کرنا چھوڑ دی ہے
مونٹیسری ڈے کئیر سینٹر پرورش کے ذمہ دار ہیں
بزرگوں کی صحبت ترک نہیں کی بس چھوڑ دی ہے
آپ جناب جیسے الفاظ اجنبی سے ہوگئے ہیں
جب سے ادب نے بات کرنا چھوڑ دی ہے
ہر ایک دستیاب ہے اب سوشل میڈیا پر
لوگوں نے بلمشافہ ملاقات چھوڑ دی ہے
کسی بات سے دل آزاری نا ہوجائےخالد
ہم نے گفتگو طویل کرنا چھوڑ دی ہے Shaikh Khalid Zahid
دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے تم نے خواب سے نکل کر
نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر
کبھی درو دیوار کے اس پار
چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں
اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں
(کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی جمتا ہو)
کچرا چنتے بچے کے ہاتھوں پر بار بار لگتی
کھروچوں کو محسوس کیا ہے
تم نے دیکھا ہے دسمبر میں
ہمارے نونہالوں کو ،مستقبل کے معماروں کو
بزدل دشمن نے کس طرح سے
بارود سے زخم دئیے تھے
اور وہ زخم جانبر بھی نا ہوسکے تھے
ایک معصوم سی بچی کل میرے پاس سے گزرتے ہوئے
بغل میں چھوٹی سی گڑیا دبائے
اپنی ماں کے ہاتھوں کوسختی سے جکڑے ہوئے(جیسے خوفزدہ ہو)
سہمی سی آواز میں کہتی جا رہی تھی
کہ ماں یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں
اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو موت کی نیند سلایا جاتا ہے
پھر میری سماعتیں سرد ہواؤں کے جھوکوں سے سن ہوگئیں
دھڑکنیں تو جیسے دل میں سمٹنے سے قاصر ہوئے جاتی تھیں
نیلم کی جیسے آنکھوں سے درد بہہتاجا رہا تھا
دسمبر کی سردی تھی
میرے کانوں میں بچی کے الفاظ گونج بن کر جم چکے تھے
ماں کیا یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں۔۔۔۔۔
بچوں کی باتوں سے اب خوف آتا ہے
ہمیں تو دسمبر سے خوف آتا ہے
یہ ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے
دل پر کھروچ لگاتا جا رہا ہے ، دسمبر گزرتا جا رہا ہے Shaikh Khalid Zahid
نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر
کبھی درو دیوار کے اس پار
چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں
اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں
(کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی جمتا ہو)
کچرا چنتے بچے کے ہاتھوں پر بار بار لگتی
کھروچوں کو محسوس کیا ہے
تم نے دیکھا ہے دسمبر میں
ہمارے نونہالوں کو ،مستقبل کے معماروں کو
بزدل دشمن نے کس طرح سے
بارود سے زخم دئیے تھے
اور وہ زخم جانبر بھی نا ہوسکے تھے
ایک معصوم سی بچی کل میرے پاس سے گزرتے ہوئے
بغل میں چھوٹی سی گڑیا دبائے
اپنی ماں کے ہاتھوں کوسختی سے جکڑے ہوئے(جیسے خوفزدہ ہو)
سہمی سی آواز میں کہتی جا رہی تھی
کہ ماں یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں
اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو موت کی نیند سلایا جاتا ہے
پھر میری سماعتیں سرد ہواؤں کے جھوکوں سے سن ہوگئیں
دھڑکنیں تو جیسے دل میں سمٹنے سے قاصر ہوئے جاتی تھیں
نیلم کی جیسے آنکھوں سے درد بہہتاجا رہا تھا
دسمبر کی سردی تھی
میرے کانوں میں بچی کے الفاظ گونج بن کر جم چکے تھے
ماں کیا یہ وہی دسمبر ہے کہ جس میں۔۔۔۔۔
بچوں کی باتوں سے اب خوف آتا ہے
ہمیں تو دسمبر سے خوف آتا ہے
یہ ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے
دل پر کھروچ لگاتا جا رہا ہے ، دسمبر گزرتا جا رہا ہے Shaikh Khalid Zahid
بہتان بن کر بھلا کیسے جیا جاسکتا ہے بہتان بن کر بھلا کیسے جیا جاسکتا ہے
پیالہ زہر کا خود سے کیسے پیا جاسکتا ہے
بہت ہوتے ہیں ایسے اپنے سے اپنے
جن کے بنا بھی جیا جاسکتا ہے
مختصر ہے مگر تکلیف دہ ہے بہت
بدل لیجیے رستہ بھٹکایا جاسکتا ہے
میں لکھ رہا ہوں کسی بھی ڈھب میں
ویسے تو زبانی بھی سمجھایا جاسکتا ہے
روح کو ڈھونڈرہا ہوں زندوں میں راہی
ورنہ مردوں کو تو دفنایا جا سکتا ہے Shaikh Khalid Zahid
پیالہ زہر کا خود سے کیسے پیا جاسکتا ہے
بہت ہوتے ہیں ایسے اپنے سے اپنے
جن کے بنا بھی جیا جاسکتا ہے
مختصر ہے مگر تکلیف دہ ہے بہت
بدل لیجیے رستہ بھٹکایا جاسکتا ہے
میں لکھ رہا ہوں کسی بھی ڈھب میں
ویسے تو زبانی بھی سمجھایا جاسکتا ہے
روح کو ڈھونڈرہا ہوں زندوں میں راہی
ورنہ مردوں کو تو دفنایا جا سکتا ہے Shaikh Khalid Zahid