یادیں خوبصورت ہوتی ہیں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiآؤ کے دل کو کچھ بہلائیں
ان وحشتوں سے کہیں دور لے جائیں
چلو پرانے محلے کی سیر کر آئیں
سلام کریں سب کو
اور دیکھ دیکھ مسکرائیں
جہاں گلی کے کونے پر
یونہی گھنٹوں گزر جائیں
نا کوئی موبائل کی گھنٹی بچے
نا ایس ایم ایس دھیان بٹائیں
گرمیوں کی دوپہر میں
کلفی والے کی ٹن ٹن پر
دبے پائوں گھر سے نکل جائیں
اس آس پر ادھر ادھر پھرنا
کہ وہ لکڑی کا دروازہ آہستہ کھلے
جیسے اسے بھی کسی کے جاگنے کا اندیشہ ہو
پھر کانچ کی چوڑیوں کی کھنک سے احاطہ کھلے
چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلے
اور تھوڑا سا پردہ ہٹے، دور جاتے کلفی والے کی صدا لگے
کن انکھیوں کا کوئی اشارہ ملے
کلفی لادینے کی استداعا کرے
جلدی جلدی بالوں کو انگلیوں سے سوارنا
کسی اور کے آجانے سے خوفزدہ سا
وہ جلدی میں پیسے پکڑتے
انگلیوں کا جذب ہوجانا
یوں مڑ کے بھاگنا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
مگر وہ دل کا دھڑکنا کے رکا ہی نہیں
کلفی کے گرجانے سے چونک جاتا ہوں
میں ویسے ہی مسکراتے واپس آجاتا ہوں
سفید بالوں میں کنگی کرتے
آئینے کے سامنے خود کو پاتا ہوں
اداس جب بھی ہوتا ہوں
تو یونہی کبھی پرانے محلے میں چلا جاتا ہوں
یا پھر اسکول کی ڈیسک میں
کسی بچے کو ربر مار کر چھپ جاتا ہوں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






