ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiچلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتے ہیں
پکار رہی ہیں صدائیں، بہنیں، بیٹیاں اور مائیں
سروں سے انکے چھتیں تو کب کی چھین لی گئیں
اب ڈھکے سروں کو برہنا کر رہے ہیں
یہ بزدل ان اوڑھنیوں کو ذرا بکتر سمجھ رہے ہیں
سوچئے ذرا!وہ بھی کیا وقت ہوگا
جب اوڑھنی کے ذرا سرک جانے سے
سورج حیا سے ڈوب گیا ہوگا
اب تو اوڑھنیوں سے بات آگے نکل گئی ہے
ہم سے مایوس ، ہماری بہن ، بیٹیاں دین بچانے نکل گئی ہیں
ناتواں ہیں مگر آہنی حوصلے لئے مقدس مٹی کی محبت میں مٹ رہی ہیں
کیا کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے
تمھیں نہیں لگتا کہ وہ
ہمیں آرام دہ عبادت گاہوں میں بیٹھے فقط دعائیں مانگتے دیکھ رہی ہیں
اور فخر سے مسکراتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں
ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
ان ماؤں کے بچوں کو دیکھو کہ
ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر لئے ہوئے
دوسرے ہاتھ میں پتھر پکڑے
جسم پر بغیر کسی ڈھال کے
اپنی ماں سے ایک قدم آگے کھڑا ہے
جیسے جامِ شہادت کو گلے لگانے کو تڑپ رہا ہے
میں بھی اپنی شرمندگی کو خالد
لفظوں میں پرو رہا ہوں اور بس ہا تھ پر ہاتھ رکھے رو رہا ہوں
جبکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ، وقت کہ عظیم سورمائوں میں شمارہے ہمارا
مگر افسوس کہ حالات کی نظر ہوگیا ہے فلسفہ حیات ہمارا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






