Shab-E-Gam-E-Furqat Hame.N Kyaa
Poet: Momin Khan Momin By: H/DR Adeeb Ahmed, KARACHIShab-E-Gam-E-Furqat Hame.N Kyaa Kyaa Maze Dikhalaa_E Thaa
Dam Ruke Thaa Siine Me.N Kambakht Jii Ghabaraa_E Thaa
Bal Be Ayyaarii Aduu Ke Aage Vo Paimaan Shikan
Vaadaa-E-Vasl Phir Karataa Thaa Aur Sharmaa_E Thaa
Sun Ke Merii Marg Bole Mar Gayaa Achchhaa Huaa
Kyaa Buraa Lagataa Thaa Jis Dam Saamane Aa Jaa_E Thaa
Baat Shab Ko Us Ke Manaa-E-Beqaraarii Se Ba.Dii
Ham To Samajhe Aur Kuchh Vo Aur Kuchh Samajhaa_E Thaa
Ko_Ii Din To Us Pe Kyaa Tasviir Kaa Aalam Rahaa
Har Ko_Ii Hairat Kaa Putalaa Dekh Kar Ban Jaa_E Thaa
Suu-E-Saharaa Le Chale Us Kuu Se Merii Naash Haa_E
Thaa Yahii Dar In Dino.N Talvaa Meraa Khujalaa_E Thaa
Ho Ga_Ii Do Roz Kii Ulfat Me.N Kyaa Haalat Abhii
"Momin"-E-Vahashii Ko Dekhaa Is Taraf Se Jaa_E Thaa
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






