Poetries by TAJ RASUL TAHIR

فرمان حسین (رض) کیوں فضا سوگوار کرتے ہو
ظالمو! کس پہ وار کرتے ہو
مجھ کو دیکھو بھلا کہ کون ہوں میں
لعل زہراء ہوں بن بتول ہوں میں
بن علی (رض)مولاء کاءنات ہوں میں
ابن مخدومہ کاءنات ہوں میں
میں ہوں گلشن کا پھول نانا کے
پسر سردار دو جہان ہوں میں
جس پہ نوری بھی ناز کرتے ہیں
دوش نبوی کا وہ سوار ہوں میں
میرے رونے پہ شاہ عرب و عجم
دل لبھاتے تھے وہ حسین ہوں میں
ثبت بوسے ہیں میری گردن پر
دین نانا کا پاسبان ہوں میں
جس نے بخشی ہے کائنات کو عقل
ایسے قرآں کا ترجمان ہوں میں
مجھ سے نسبت حصول جنت ہے
جس کا سردار نوجوان ہوں میں
لڑنے مرنے کو میں نہیں آیا
صلح جو ہوں امن کا مان ہوں میں
ہم پہ آب فرات بند نہ کرو
آب کوثر کا میزبان ہوں میں
مجھ پہ واجب کرو گے جنگ اگر
ابن حیدر ہوں اور حسین ہوں میں
راہ حق پر تو جاں بھی حاضر ہے
جرءات و عزم کا نشان ہوں میں
حشر تک ضوفشاں رہوں گا سنو!
مثل خورشید آسمان ہوں میں
کتنے خیموں کو تم جلاؤ گے
آل ننگے سروں پھراؤ گے
چھین کر انکی چادریں سر سے
صبر کو کتنا آزماؤ گے
تم نے آل نبی پہ ظلم کئے
زندگی میں سکوں نہ پاؤ گے
تاج! شہداء کی زندگی ہے دوام
اور کتنا ہمیں رلاؤ گے
Taj Rasul Tahir
ہمارے دیس کا آدم بڑا نرالا ہے ہمارے دیس کا آدم بڑا نرالا ہے
ہر ایک نفس بنا شعلہ ء جوالا ہے
ہر ایک سوچ پہنچتی ہے انتہاؤں پر
مگر نتیجے میں اک داعرہ سا ڈالا ہے
بنا ہے دیس میرا گڑھ نئے مصاءب کا
ہر ایک سمت میں ظلمت نے دم نکالا ہے
میرے ہی دیس کے حاکم بنے ہیں خوں آشام
سبھی کے ہاتھ میں خنجر نے سر نکالا ہے
غریب شہر کو لالے پڑے ہیں جینے کے
امیر شہر نےڈالر میں ہاتھ ڈالا ہے
زمانے بھر میں اگر دام گر گئے پھر بھی
ہمارے دیس میں آءل کا بول بالا ہے
بڑھیں تو نوٹ کی صورت ہر اک مہینے میں
مگر کمی ہے تو پیسے میں فال ڈالا ہے
یہ برق و گیس کے بھالے چلیں گے غربت پر
کہ جب تلک ہمیں جمہوریت سے پالا ہے
ہمارے دیس پہ غیروں نے بھی کیا ایکا
بچے کھچے پہ ہر اک نے دہان ڈالا ہے
کوئ ڈرون کی صورت عذاب بنتا ہے
کوئ دھماکے میں سب کچھ اڑانے والا ہے
اے کاش کوئ تو ہو جو سنے غریبوں کی
ڈرون کو بھی کوئ تو گرانے والا ہے
غرور خاک میں مل کر رہے گا ظالم کا
خدا کا غضب کسی روز آنے والا ہے
جو آج سنتا نہیں ہے کسی کی آہ طاہر!
زمانے بھر میں وہ رسوا ہونے والا ہے
Taj Rasul Tahir