ہو جیسے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadدید اک التزام ہو جیسے
محویت صبح و شام ہو جیسے
سارے پہلو میں دخل ہے اسکا
زیست اسکے ہی نام ہو جیسے
کسک جاتی نہیں کسی لمحے
قصہء نا تمام ہو جیسے
جلترنگ سا سنائی دیتا ہے
مجھ سے وہ ہم کلام ہو جیسے
اسکے لب سے جو پھوٹ کر نکلے
مسکراہٹ انعام ہو جیسے
بات سنتا ہے یوں توجہ سے
دل یہ اسکا غلام ہو جیسے
اسکی رعنائیوں کا ذکر ہی کیا
شوخ رت بے لگام ہو جیسے
روز جاتے ہیں اہتمام کے ساتھ
اسکا در فیض عام ہو جیسے
مست طاہر ہے کن خیالوں میں
جذب میں بے انام ہو جیسے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






