گیت (میرے محسن تو کتنا حسیں ہے)
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabad میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
تیری زلفوں کے سائے گھنیرے
کالی راتوں کے جیسے اندھیرے
یہ اندھیر ے رہیں ساتھ میرے
جن اندھیروں میں تو ہمنشیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تیرا چہرہ ہے رنگ,بہاریں
جیسے کلیاں کسی نے سنواریں
جیسے شبنم کے قطروں سے دھل کر
کتنی روشن ستارہ جبیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ حسیں لب نشیلی نگاہیں
میرے دل پہ نشہ بن کے چھائیں
ان نگاہوں کی بادہ کشی سے
میکدہ یاد آتا نہیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
یہ سراپا تیرا دلنشیں ہے
تجھ سے رنگیں قزاح بھی نہیں ہے
تجھ سے رونق ہے طاہر کے من میں
سو حسینوں کی اک نازنیں ہے
میرے محسن تو کتنا حسیں ہے
تجھ سا آنکھوں نے دیکھا نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






