Talaash Meri Aaj Bhi Khatam Nahi Hai
Poet: Aamna s.r By: Aamna s.r, karachiTalaash Meri Aaj Bhi Khatam Nahi Hai
Kuch Mil Bhi Gaya Kuch Hath Bhi Nahi Hai
Bohut Kuch Kho Bhi Bethi Hun
Par Aaj Bhi Tera Intezar Hai Par Etebar Nahi Hai
Tu Sirf Mera Khuwab To Nahi Hai
Kya Tu Mjhe Bulkul Janta Nahi Hai
Teri Chah Me Ankhen Thak Chuki Hen
Q Tu Gum Gaya Hai Q Aata Hi Nahi Hai
Kya Tu Kahi Bhi Nahi Hai
To Phir Ye Dil Manta Q Nahi Hai
Q Kehta Hai K Tu Hai Yahi Kahi
Koi Bhi Meri Ye Baat Manta Hi Nahi Hai
Q Tu Aake Sabko Batata Nahi Hai
Kya Tu Bhi Mjhe Chahta Nahi Hai
Kam Se Kam Aake Meri Palkon Ko Jhukade
Par Tujhe Shayed Mera Ehsas Hi Nahi Hai
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






