Talaash
Poet: khawar By: khawar shazad, jungJis Saey Ke Pichey Umer Bhar Baagte Rahe Hum
Is Ki Chaa'oon Me Kabhi Na Beth Sakey Hum
Raaste Me Aag Ka Dare'a Aya Ya Phir Nafrat Ka Samandar
Bas Ik Nadd'ee Samaj Ker Kodat'tey Hee Ge Hum
U Tu Tera Milna Mumkin Na Tha
Aa Khawar,
Lakin Dill Ne Itna Satta'ya Ke Bin Soche Hee Chal Diye Hum
Zaroori Tha Kuch Sar-O-Samaa'n Bhi Hota Safar K Liye
Jab 2'no Hath Khalee Dekhe Tu Bey Sar-O-Samaa'n Hi Chal Diye Hum
Umer Ka Meri Ik Hissa Guzar Chala Tha
Lakin Phir Bhi Teri Talaash Me Bhatak Rahe The Hum
Manzil Ke Liye Itna Baagey Ke Baagtey Baagtey
Jab Wapis'ee Ka Socha Tu Weh'ee Thak Ge Hum
Pao'on Taley Se Zamee'n Khench Le Gai Teri Be'wafai Ki Khabar
Bas Wo Din Tha Or Aaj Kam'sin Na'kaam Aa'shiq Ho Ge Hum
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






