Tashnagi
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, IslamabadHad Say Guzarti Hai Jab Kabhi Tashnagi Soch Mein
Chala Ata Hon Roay Darya Soch Hi Soch Mein
Sar-E-Sahil Apnay Hi Kadmon K Takub Mein
Nigah Door Nikal Jati Hai Kisi Gehri Soch Mein
Dhalay Dhalay Se Nakoosh-E-Kaf-E-Pa Reg-E-Darya Par
Daal Detay Hain Ik Ajnabi C Soch Mein
Shayed Koi Kareeb Se Guzra Hai Phir Abhi
Mauj-E-Darya Hai Kuch Nishan Mitanay Ki Soch Mein
Pehlo Nasheen Ki Arzoo Kabhi Tak-E-Safar Ka Aarza
Hoti Hai Sarf Youn Musafir Ki Zindagi Soch Mein
Chehray K Tabassum Ko Shadmani Na Samjhiay
Tanha Pan Ka Sarab Hai Is Chehkati Soch Mein
Tang Nazari Ki Bhi Had Hoti Hai Raza Ji
Kyun Is Kadar Rookha Pan Hai Aapki Soch Mein
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






