Teri Aankhen Tabasum Lab
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JacobabadTeri Aankhen Tabasum Lab
Teri Zulfen Bikharny Tak
Bhula Paaon Ga Kiya Kiya Main
Muhabat Sy Bicharny Tak
Musalsal Zulmaton Men Ye
Safar Jaari To Rakhna Hay
Hamen Chalty Hi Rahina Hay
Koi Sooraj Ubharny Tak
Mujhy Maaloom Kab Tha Yun
Achanak Hi Bicharna Hay
Hamen To Sath Chalna Tha
Isi Chahat Men Marny Tak
Meri To Zindagi Men Har
Inayat Bas Usi ki Hay
Mujhy Aabaad Karny Sy
Mujhy Barbaad Karny Tak
Bigarrny Waly Ka Aasaan
Nahi Hota Sudhar Jana
Bahut Hi WaQt Lagta Hay
Bigarrny Sy Sudharny Tak
Bahut Rona Parra Hay
MeeR Mery Dil ko Chahat Men
Tery Dil Men Utarny Sy
Tery Dil Sy Utarny Tak
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






