Tou Bhi Ab Dil Se Uttar Jaa Sanam
Poet: Nazim Ali By: Nazim Ali, OKaraHar Shoq-e-Tammana Khatam Hui
Or Nehin Hai Koi Bhi Talab
Dil Bhar Chuka Hai Mera’
Tou Bhi Ab Dil Se Uttar Jaa Sanam
Tujh Ko Dekhe Hoye Ek Zamna Guzra’
Youn Hi Jee Raha Hon
Mujh Pe Sab Beet Chuka Hai
Or Seh Lon Ga Ab Tera Bhi Dard Sanam
Arzo Tou Ab Main Kese Karon’
Jee Chahta Hai Bass Tobaa Karon
Ek Mudat Chala Hon Is Raste’
Ab Is Raste Ki Matti Mein
Dabaa Jaa Mujhe Sanam
Har Rooz Jee Jalata Hon
Or Bakwas Kahaniyan Sochta Hon Nazim
Main Janta Hon Raigan Hai Ye Hunnar’
Ab Behad Shor Machata Hon Sanam
Logo Mat Chalna Is Rah Pe
Gar Khush Rehna Chahte Ho
Nazim Tou Uttar Chuka Hai Sumander Mein’
Jaa Ab Meri Koi Tasveer
Dewar Pe Laga De Sanam
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






