Ye Nam Mumkin Nhi Rhy Ga
Poet: Noshi Gillani By: Nice-Thinker, FaisalabadYe Naam Mumkin Nahi Rahay Ga Muqaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Gharoor Lehjay Mein Aa Gaya Tou Kalaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Ye Barf Mausam Jo Sheher-E-Jaan Mein Kuch Aur Lamhay Theher Gaya
Tou Lahoo K Dil Ka Kisi Gali Mein Muqaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Tum Apni Saanson Se Meri Saansain Alag Tou Karnay Lagay Ho Laikin
Jo Kaam Aasaan Samajh Rahay Ho Wo Kaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Wafaa Ka Kaaghaz Tou Bheeg Jaye Ga Badgumaani Ki Baarishon Mein
Khaton Ki Baatain Tou Khwaab Hon Gi Payaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Mein Jaanti Hun Mujhe Yaqeen Hai Agar Kabhi Tu Mujhe Bhula De
Tou Teri Aanhkon Mein Roshni Ka Qayaam Mumkin Nahi Rahay Ga
Ye Ham Mohabbat Mein La Ta'alluq Se Ho Rahay Hain Tou Dekh Laina
Duaaein Tou Khair Kon De Ga Salaam Mumkin Nahi Rahay Ga
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






