زرا سی بات پہ اتنا بوال کیسے ہوا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiزرا سی بات پہ اتنا بوال کیسے ہوا؟
تمهارے خون میں اتنا اُبال کیسے ہوا؟
میں بھول جاؤں گی کیسے کہہ دیا تم سے
تمہارے دل میں یہ پیدا سوال کیسے ہوا
تمیں پتا ہے کہ غصّه حرام ہے سب پر
تو پھر بتاؤ یہ تم پر حلال کیسے ہوا؟
کہ جس نے ساتھ نبھانے کی کھائی تھیں قسمیں
وه مجھ کو چھوڑ گیا یہ کمال کیسے ہوا؟
جب اُس غریب کو دیتے تھے وقت پر کھانا
تو اس کا بھوک سے پھر انتقال کیسے ہوا ؟
میں جس کے واسطے برباد هو گئ دیکھو
اُسی نے پوچھا که آخر یه حال کیسے ہوا؟
یہ کیا بتائیں زمانے کو راز اے وشمہ
کسی کے عشق میں جینا محال کیسے ہوا؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







