آ جا
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhasپھر کسی سورت کسی بہانے آ جا
دل بہلتا نہیں تو اسے بہلانے آ جا
آ جا کہ کہیں بھی چین نہیں تجھ بن
آس ملنے کی ھے امید بندھانے آ جا
کوئی اپنا نہیں جز ما سوا تیرے
آ جا اپنے ہونے کا یقین دلانے آ جا
دل کی حالت زار دیکھ اپنے خستہ ھے
مر نہ جائوں کہیں مکھڑہ دکھانے آ جا
بیشتر اس سے کہ یہ زخم بھر جائیں
نمک تازہ کوئی پھر سے چھڑکانے آ جا
آ جا یاد نے تیری ہمیں مار رکھا ھے
حسرت دید ھے اپنا جلوہ دکھانے آ جا
مر گیا یار اسد آہ غم میں تیرے
وقت رخصت ھے چند آنسو بہانے آ جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






