آ پھر سے گزرے ہوئے زمانے آ
Poet: ساگر حیدر عباسی By: saima naz abbasi, karachiکسی بھولی ہوئی چیز کے بہانے آ
میرے ضبط کو پھر سے آزمانےآ
دلِ ناداں کو پھر سے بہلانے آ
قصہِ حاصلِ وفا کو دہرانے آ
آ پھر سے گزرے ہوئے زمانے آ
داغِ دل کو تاریکیوں میں جلانے آ
برسوں سے جاگتی آنکھوں کو سلانےآ
پلکوں پہ ٹھہرے ساون کو برسانے آ
مجھے پھر سے جدائی کے غم میں رلانے آ
آ پھر سے گزرے ہوئے زمانے آ
دل میں سوئے ہوئے ارمانوں کو جگانے آ
میرے سینے میں دبے ہوئے طوفان اٹھانے آ
منڈیروں پہ جلتے ہوئے دیپوں کو بجھانے آ
میری وفاؤں کو پھر سے تماشہ بنانے آ
آ پھر سے گزرے ہوئے زمانے آ
دل مین دبی ہوئی چنگاری کو سُلگانے آ
ہوش میں یاد آنے والے کبھی تو میخانے آ
کوئی نیا زخم ہی سہی دل پہ لگانے آ
اپنی یادوں کی تاثیر کو بڑھانے آ
آ پھر سے گزرے ہوئے ژمانے آ
مجھے سنبھال کر پھر سے گرانے آ
لبوں پہ دعا کا حرف سجانے آ
یا پھر اپنے کیے ہوئے ستم کو دہرانے آ
آ پھر سے گزرے ہوئے زمانے آ
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






