آ گئی ہے بہار آؤ تو
Poet: azharm By: Azhar, Dohaآ گئی ہے بہار آؤ تو
ختم ہو انتظار آؤ تو
پتا پتا چمک رہا ہے دیکھ
ڈالی ڈالی نکھار آؤ تو
پھول بھی مسکُرا رہے ہوں گے
اور ہم اشکبار آؤ تو
پھر محبت میں سوچنا کیسا
جیت ہو اب کہ ہار آؤ تو
کل ترا تھا میں آج تیرا ہوں
کیا نہیں اعتبار؟ آؤ تو
جان و دل تجھ کو دے دیے میں نے
بس ترا اختیار آؤ تو
گلشنوں میں خزاں تو آتی ہے
پھر سے لیں گے سنوار آؤ تو
کب کہاں زخم آ گئے اظہر
راز ہوں آشکار آؤ تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






