آؤ کسی اداس ستارے کے پاس جَائیں

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

آؤ کسی اداس ستارے کے پاس جَائیں
دریائے آسماں کے شکارے کے پاس جائیں

اس سے بھی پوچھ لیں کہ گزرتی ہے کس طرح
یارو کبھی کسی کے سہارے کے پاس جائیں

مٹھی میں لے کے دل میں بٹھا لیں جو ہو سکے
اک ناچتی کِرن کے شرارے کے پاس جائیں

اس مہ جبیں کی یاد بھی باقی نہیں رہی
کس منہ سے چاندنی کے نظارے کے پاس جائیں

ناپختگان ِ عشق عجب وسوسے میں ہیں
دیکھیں یہیں کہیں سے کہ دھارے کے پاس جائیں

اس کش مکش میں سارے ادیبوں کا ذہن ہے
دل کی طرف چلیں کہ ادارے کے پاس جائیں

یا جا کے چھپ رہیں کسی شیشے کے قصر میں
یا عصر ِ انقلاب کے آرے کے پاس جائیں !

Rate it:
Views: 479
22 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL