آئندہ بھی بھگتیں گے
Poet: purki By: M.hassan, karachiقانون اور ضابطے کی دھجیاں اڑائیں گے
ہم چور ڈاکو پھرسے جیت کر دکھائیں گے
کس طرح بدلے گا یہ ظُلم کا سماج
مجھے نظر نہیں آتا انقلاب آئیں گے
صدیوں سے یہ سوار ہیں عوام کے اعصاب پر
مفلوج کردیا ہے زہنوں کو اب کیا اچھا سوچیں گے
پُرانے کھلاڑی ہیں سب سالوں کے آزمائے ہوئے
اتنا مال کمایا ہے دل کھول کر لٹائیں گے
پانچ سالوں میں عوام کا خون نچوڑا ہے
موقع ملے تو ان کو آئندہ بھی ہم نچوڑیں گے
میرے وطن کے لوگوں کا حافظہ بہت نرالا ہے
تم دیکھنا یہ ہمیں آئندہ بھی اپنے سروں پر بٹھائیں گے
آئندہ الیکشن جیتنے کا ہم نے پورا منصوبہ بنایا ہے
ایک ایک ووٹ خریدیں گے اور پھر حکومت بنائیں گے
ہم نے دوران حکومت یہی تو ایک اچھا کام کیا ہے
اہم اہم عہدوں پر اپنے خاص چمچوں کو لگایا ہے
روٹی کپڑا اور مگان کا وعدہ کرکے مکر جانے والو
روز قیامت تم اپنے رب کو کیا منہ دکھائیں گے
ہر ادارے کا جان بوجھ کر بیڑہ غرق کیا ہے تم نے
اب کیا خاک جیتیں گے اور کیا خاک حکومت بنائیں گے
جو کچھ سلوک کیا ہے تم نے عوام کے ساتھ
اب عوام تاقیامت تم کو ووٹ نہ دیں گے
ووٹ دینا ہے تو کسی باکردار کو دے دو
ورنہ پہلے کی طرح آئندہ بھی بھگتیں گے
تم کیوں اپنے مستقبل سے مایوس ہے پُرکی
چھٹ جائیں مظالم جلد اور عادل لوگ آئیں گے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






