آئینوں جب کوئی تصویر دکھاتے کیوں ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآئینوں جب کوئی تصویر دکھاتے کیوں ہو
اصل چہرہ بھی ذرا سامنے لاتے کیوں ہو
اور کیا، دے ہی چکے ہو جو اندھیرے کو شکست
ایک لحظہ کو سہی جوت جگاتے کیوں ہو
میں ادھر کی بھی نہیں، اور اُدھرکی نہ رہی
تجھ سے راضی بھی نہیں اور جلاتے کیوں ہو
تُو نہیں ہے، تو بھی احساس ترا رہتا ہے
وصل لگتا بھی نہیں اور رلاتے کیوں ہو
اُس کے اظہار سے پہلے کوئی امکان تو تھا
اب جو انکار کیا ہے تو سناتے کیوں ہو
دور ہو زلف رسا کی یہ پریشانی کچھ
اس کو سُلجھاو تو گل کو سجاتے کیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






