آئینہ ذرا بنا دیجے
Poet: Kaashif By: Kaashif R. Chohdaree, Islamabadیہ زلفیں رخ زیبا سے ذرا ہٹا دیجے
عید کو ترستے ہیں،چاند ذرا دکھا دیجے
شب وصل گزر نہ جائے یونہی خاموش
کانوں میں رس گھولیے، لب ذرا ہلا دیجیے
گرمی جذبات سے پگھل رہا ہوں لمحہ لمحہ
زلفوں کی چھاؤں کیجیے،آنچل ذرا ہلا دیجیے
نغمہء بلبل اداس ہے اور ساز بہار خاموش
آءیے تو چمن میں، ہلچل ذرا مچا دیجیے
منزل عشق کٹھن اور رستے دشوار بہت
دو گام پہ ہے منزل،گر ذرا وفا دیجیے
میں بادہ کش نہ بالا نشیں مگر آج کی رات
جام ان آنکھوں سے دو چار ذرا پلا دیجیے
یہ ساتھ نہ رہا تو کیا لطف زندگی کا
مرے ساتھ رہیے، جینے کا ذرا مزا دیجیے
رشک اس پر،جسے دیکھا کیے وہ صبح وشام
یا رب! کاشف دیوانے کو آئینہ ذرا بنا دیجیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






