آئینہ مکار کو توڑو
Poet: Mohammad Sadiq Mushwani By: Mohammad Sadiq Mushwani, Quettaپھولوں سے نالش ہے تو چمن بھی اجاڑ دو
آئینہ مکار کو توڑو بگاڑ دو
سنتے ہیں کہ لوگ لوٹ کے لے جاتے ہیں متاع
اب کرلو تم احتیاط اور دل کو کواڑ دو
تنکے کا سہارا تو کافی نہیں مجھ کو
ڈوبنے سے بچوں کیسے تم کوئی پہاڑ دو
گہرے ہو تم ساگر سے اب چھپ ہو کیا ہوا
رودے گی ساری بستی ذرا دل تو جھاڑ دو
ہنستی ہوئی محفل کو سوگوار یوں کردو
صادق ذرا سنبھل کے کچھ دل کو دراڑ دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






