آئینہ کیوں ٹوٹ گیا؟؟
Poet: maria riaz By: maria ghouri, haroonabadابھی تو بہت باتیں باقی تھیں
ابھی تو اتنی راتیں باقی تھیں
وقت کیوں روٹھ گیا
آئینہ کیوں ٹوٹ گیا
یقیں کرتے جو تم وفاؤں کا
میرے احساس کی اداؤں کا
میرے دل کے گداز جذبوں کا
میری الفت کا میرے سپنوں کا
تو یوں خاموش نہ چلے جاتے
میری حسرت کو یوں نہ تڑپاتے
آج بھی مڑ کے ذرا دیکھ مجھے
آج بھی ڈھونڈتی ہے سوچ تجھے
تو ابھی تک ہے میری سانسوں میں
میری شاموں میں میری راتوں میں
بزم یہ تیرے بن ادھوری ہے
میرے محبوب کیسی دوری ہے
ابھی تو اتنے موسم باقی ہیں
ابھی وہ خواب صنم باقی ہیں
جن میں بس ملن ہی ملن ہوتا
حسیں جذبات کا چمن ہوتا
ہم نے چپ چاپ محبت کی تھی
ایک سائے سے مجبت کی تھی
وقت کیوں روٹھ گیا
آئینہ کیوں ٹوٹ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






