آئینہ ہاتھ میں دن رات لئے پھرتے ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآئینہ ہاتھ میں دن رات لئے پھرتے ہیں
روبرو گردش حالات لئے پھرتے ہیں
دیکھنا حسن کے ان فتنہ گروں سے بچ کے
جیت کے بھیس میں جو مات لئے پھرتے ہیں
زندگی نام ہے فرہاد کی تیشہ گری کا
آپ تو مہندی لگے ہاتھ لئے پھرتے ہیں
یوں مجھے دیکھتے جاتے ہیں تیرے شہر کے لوگ
جیسے ماتھے پہ مکافات لئے پھرتے ہیں
جان من دیکھنا فرصت کے چار لمحوں میں
ہم بھی جزبوں کی کرامات لئے پھرتے ہیں
ان کے دالان میں کھلتے ہیں شگوفے ہر دم
ہم وہاں یونہی غم ذات لئے پھرتے ہیں
دیکھ کر مجھ کو کہا دشت کی ویرانی نے
آپ پھر زندگی کی بات لئے پھرتے ہیں ؟
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






