آئے آج گئےلمحے کوئی یاد کریں
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadآئے آج گئےلمحے کوئی یاد کریں
بزم ویراں دم فرصت نئی آباد کریں
کچھ تو ہو تذکرہ عشق و وفا کی رونق
آج پہلو میں دل شاد کو نوشاد کریں
اور چلیے تو سہی راہ گم گشتہ پر
وہی دیکھیں جو سنگ میل تو کچھ یاد کریں
کتنے ارماں ہیں سبوتاژ وفا کے پیچھے
ہیں پنپنے کو تیار فسوں یاد کریں
آپ بدلیں نہ سہی اپنے لیے ذوق نیا
ہم سے کہیے کہ نہ لٹنےپہ بھی فریاد کریں
ایک خوشبؤ سی ہے احساس پہ حاوی جیسے
اک سندیسہ ہے کہ گلشن نیا آباد کریں
اب کے طاہروہ نشہ اور بھی مدہوش کرے
جھکی نظروں کی جو مخمور ادا یاد کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






