آئے تھے تو بیمار کا حال تو پوچھتے‎.

Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.A

آئے تھے تو بیمار کا حال تو پوچھتے
میں نے کیسے گزارے سال تو پوچھتے

ہمت ، حوصلہ جب ہار جاتی تھی
میری بے بسی کا ملال تو پوچھتے

ہر لمحہ جوابوں میں کھوئی رہتی تھی
وہ ان کہیں سوال تو پوچھتے

دل کیسے ہوا ُدکھ سے چور چور میرا
دنیا کے چلائے چال تو پوچھتے

میری راتیں سجدوں میں گزرتی تھی
میرے دن نڈھال تو پوچھتے

تمہاری قید نے مجھے رہا نہ کیا
اپنی نظروں کے جال تو پوچھتے

تمہارا نام لینے سے قیامت آئی تھی
مجھ پر ہوئے ستم کمال تو پوچھتے

میرا نام کسی نے رکھا تھا ُعروج
مجھ پر کیوں آئے زوال تو پوچھتے

میرے ہمدم سزا سناتے وقت
مجھ سے میرا اعمال تو پوچھتے

Rate it:
Views: 796
14 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL