آباد کر یا مجھ کو ویران کر
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonخود کو تو فریبِ داستان کر یا مجھ کو شادمان کر
اب تیرے زیرِ دست ہیں آباد کر یا مجھ کو ویران کر
آ بیٹھے تیری کشتی میں واپسی کی راہیں بُھلا کر
لے چل ساحل کی طرف نا خدا یا سُپردِ طوفان کر
نفس بےاختیار کی طرح اس سفر پر کچھ احتیار نہیں
سانس میں سماکر مُعطرکر مجھ کو یا سفربےخُمار کر
کُھونٹے سے تیرے ہیں بندھے بِنا تجھ کو جانے
اب اپنی صبح شام میرے نام کر یا مجھ کو بےدام کر
ہوئے رخصت دعاؤں کے حصار تیرے نام جُڑ کر
اب تو قابلِ احترام کر یا پھر مجھ کو بے مقام کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






