آتی ہے تیری یاد لیکن کبھی کبھی
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, rawalpindiآتی ہے تیری یاد لیکن کبھی کبھی
ہوتی ہے جواں دل کی دھڑکن کبھی کبھی
تصور میں ہم کہیں خوشبو میں بیٹھ کر
سجا لیتے ہیں تیری انجمن کبھی کبھی
تو نے مجھ کو بھلا دیا یہ میرا نصیب تھا
گل سے بھی جل جاتے ہیں گلشن کبھی کبھی
جب خوشیوں کے ساتھ تیرے غم کی بات ہو
لوٹ آتا ہے اپنی آنکھوں میں ساون کبھی کبھی
ہونٹوں پہ میرے لالی کا راز یہ ہوا
دیتے تھے مجھ کو بوسہ وہ گلبدن کبھی کبھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






