آتے جاتے ہیں اب تو سب ہی غیر اس میں
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiآتے جاتے ہیں اَب تو سب ہی غَیر اس میں
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا
چند لمحوں کے لئے اُس پہ یَقیں آ بھی گیا تھا
پر مجھے یوں خود کو دھوکا نہیں کرنا چاہئے تھا
چاہت کے سفر میں تو نے حدِ عَداوت کی
اَیسے ظالِم کو تو پیارا نہیں کرنا چاہئے تھا
میں نے روکا تھا مگر دِل نہ رُکا، اُس نے کہا بھی
عِشق کو اِتنا طَلَب گار نہیں کرنا چاہئے تھا
لوگوں کے تَبصروں میں خود کو رُسوا کیا میں نے
اَپنی تَقدیر کا اِظہار نہیں کرنا چاہئے تھا
یاد آتی ہے تو دِل پھر سے خطا کرتا ہے ناحَق
اَیسے نادَم کو پُکارا نہیں کرنا چاہئے تھا
اَب پَشیمان ہوں، ہر بات پہ آتی ہے خَلَش سی
یوں کسی نام پہ رسوا نہیں کرنا چاہئے تھا
میں ہی غم خوار تھا، میں ہی تماشا بن گیا آخر
اپنے ہی دِل کو تماشا نہیں کرنا چاہئے تھا
مظہرؔ دِل کے اِرادوں کا یہ اَنجام تو دیکھا
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






