آتے جاتے ہیں اب تو سب ہی غیر اس میں
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiآتے جاتے ہیں اَب تو سب ہی غَیر اس میں
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا
چند لمحوں کے لئے اُس پہ یَقیں آ بھی گیا تھا
پر مجھے یوں خود کو دھوکا نہیں کرنا چاہئے تھا
چاہت کے سفر میں تو نے حدِ عَداوت کی
اَیسے ظالِم کو تو پیارا نہیں کرنا چاہئے تھا
میں نے روکا تھا مگر دِل نہ رُکا، اُس نے کہا بھی
عِشق کو اِتنا طَلَب گار نہیں کرنا چاہئے تھا
لوگوں کے تَبصروں میں خود کو رُسوا کیا میں نے
اَپنی تَقدیر کا اِظہار نہیں کرنا چاہئے تھا
یاد آتی ہے تو دِل پھر سے خطا کرتا ہے ناحَق
اَیسے نادَم کو پُکارا نہیں کرنا چاہئے تھا
اَب پَشیمان ہوں، ہر بات پہ آتی ہے خَلَش سی
یوں کسی نام پہ رسوا نہیں کرنا چاہئے تھا
میں ہی غم خوار تھا، میں ہی تماشا بن گیا آخر
اپنے ہی دِل کو تماشا نہیں کرنا چاہئے تھا
مظہرؔ دِل کے اِرادوں کا یہ اَنجام تو دیکھا
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






