آج انسان ہے ملا نہ کریں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآج انسان ہے ملا نہ کریں
اپنے کردار سے دغا نہ کریں
جو پرندہ رہا کیا ہے ابھی
وہ بھی ہے آخری زرانہ کریں
دل کی خواہش جو بڑھ رہی ہے ابھی
لطف آئے گا دل رہا نہ کریں
اس سمندر میں ہاتھ میرا ہے
ناؤ اشکوں کی اب جلانہ کریں
نظر آتی نہیں وفا مجھ کو
میری چاہت کو آزما نہ کریں
کون سوچے کہ راہ الفت میں
کتنے مشکل کیا دعا نہ کریں
میری آنکھوں میں قید ہیں دریا
قافلے یاد کے بہا نہ کریں
بڑھتی جاتی ہے آج تشنہ لبی
اپنے جذبات ان چھپانہ کریں
اس کو دنیا وفا سے کیا لینا
سارے عالم سے یہ وفا نہ کریں
اُس سے ملنے کی اب بھی حسرت ہے
وعدہ کر کے جو مکرتا نہ کریں
آپ کے شہر گر رہوں وشمہ
کیا قباحت ہے دل لگا نہ کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






