آج ایسا نہ ہوتا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaاک پل کو ہی میری بات مان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
اپنا بنانے سے پہلے گر اُسے جان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
اب جو روتے ہو خود کو جلا کے رات دن
وہ آگ ہے اگر پہچان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
کتنی بار کہا کہ انجان لوگوں سے نہ ملا کر
دوستی کرنی تھی تو اُس سے بیان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
کشتی کو کنارا مل ہی جاتا میرے دل اگر طوفان سے پہلے
لہروں کو جان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
وہ بے وفا ہے تُو کس کس کی زبان کو روکے کا نہا ل
پاگل محبت سے پہلے تُو اُسی سے زبان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
جیسے ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی نہا ل
ویسے ہی ہر پھول کو تُو کومل نہ جانتا تو آج ایسا نہ ہوتا
نہ خُدا سے گلا ، نہ قسمت سے شکایت ، نہ و ہ بے وفا
نہا ل خود کو ہی اک شخص عام مان لیتا تو آج ایسا نہ ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






