آج شور پس دیوار نے سونے نہ دیا

Poet: Allama Khalid Roomi By: Kifayat Ullah, Rawalpindi

 آج شور پس دیوار نے سونے نہ دیا
پھر ہمیں جشن کے آثار نے سونے نہ دیا

آپ کے حسن طرحدار نے سونے نہ دیا
کشش گیسوئے خمدار نے سونے نہ دیا

پھر بھڑک اٹھی ہیں چنگاریاں دل میں کیا کیا
پھر کسی آہ شرر بار نے سونے نہ دیا

رات بھر داغ دل اپنے ہی کئے ہم نے شمار
دشت میں رونق گلزار نے سونے نہ دیا

وہ تو سویا کئے آرام سے اپنے گھر میں
ہمیں ویرانی گھر بار نے سونے نہ دیا

آنکھ لگتی تو بھلا کیسے شب غم ، لگتی ؟
جب ہمیں چرخ ستمگار نے سونے نہ دیا

رات بھر دل میں رہا ماتم حسرت برپا
مرگ الفت کے عزادار نے سونے نہ دیا

آجکی رات کا رومی ! کروں کیا تم سے بیاں
پھر مرے دیدہ خونبار نے سونے نہ دیا

Rate it:
Views: 610
12 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL