آج طے کر لیا ہے فُرقت میں

Poet: عارف اشتیاق By: Arif Ishtiaque, Karachi

 آج طے کر لیا ہے فُرقت میں
عُمر گزرے گی تم سے نفرت میں

اب تِرا حُسن بھی تباہ ہوگا
غیر ہے میں نہیں ہوں خلوت میں

جِسم حاضر رکھو ہوس کے لیے
اور کیا___ حاصل ِ محبت میں؟

ایک ہی بات سچ کہی میں نے
جھوٹ بولا تیری حِمایت میں

اور __ فِطرت کے آدمی تھے ہم
اور دُنیا ملی ” یہ“ قِسمت میں

آپ کو ہم سے یہ گِلہ ہی رہا
آپ آئے نہیں مُصیبت میں

آخری سانس تک چلے آئے
اِک اِک سانس کی حفاظت میں

اور ! اُلجھا دیا گیا ہم کو
سُرخ رشتوں کی سرد وحشت میں

جنگ اِبلیس اور خدا میں تھی
اور ہم لُٹ گئے عقیدت میں

Rate it:
Views: 2014
15 Aug, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL