آج فرصت ہے چلو اسے سوچا جائے
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratآج فرصت ہے چلو اسے سوچا جائے
کیوں نہ حد سے بڑھ کے دیکھا جائے
ریزے کم ہی بکھرے ہیں آئینہ دل کے
آؤ پھر اک اور پتھر پھینکا جائے
ابھی ہوش سے ہوں بیگانا میں
شہر چھوڑ کے صحرا کو جایا جائے
اب رہتا ہوں اداس ساون میں
تنہا ہم سے تو نہ اب بھیگا جائے
شب بھر تو ٹھہر جا اے یاد یار
دل یہ چاہتا ہے آج پھر رویا جائے
شہر کے خریداروں میں شامل ہو تم
مظہر آؤ آج زخموں کو بیچا جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







